Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 75

Tafseer
  1. وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴿75﴾

    1. وَلَوْاور اگر
    2. رَحِمْنٰهُمْہم ان پر رحم کریں
    3. وَكَشَفْنَااور ہم دور کردیں
    4. مَا بِهِمْجو ان پر
    5. مِّنْ ضُرٍّجو تکلیف
    6. لَّلَجُّوْاارے رہیں
    7. فِيْمیں۔ پر
    8. طُغْيَانِهِمْاپنی سرکشی
    9. يَعْمَهُوْنَبھٹکتے رہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر ہم اِن پر رحم کریں اور وہ تکلیف جس میں آج کل یہ مُبتلا ہیں ، دُور کردیں تو یہ اپنی سرکشی میں بالکل ہی بہک جائیں گے۔ 72
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِنُوْن 72 اشارہ ہے اس تکلیف و مصیبت کی طرف جس میں وہ قحط کی بدولت پڑے ہوئے تھے۔ اس قحط کے متعلق روایات نقل کرتے ہوئے بعض لوگوں نے دو قحطوں کے قصوں کو خلط ملط کردیا ہے جس کی وجہ سے آدمی کو یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے یا بعد کا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کے دور میں اہل مکہ کو دو مرتبہ قحط سے سابقہ پیش آیا ہے۔ ایک نبوت کے آغاز سے کچھ مدت بعد۔ دوسرا، ہجرت کے کئی سال بعد جب کہ ثمامہ بن اثال نے یمامہ سے مکہ کے طرف غلے کی بر آمد روک دی تھی۔ یہاں ذکر دوسرے قحط کا نہیں بلکہ پہلے قحط کا ہے۔ اس کے متعلق صحیحین میں ابن مسعود ؓ کی یہ روایت ہے کہ جب قریش نے نبی ﷺ کی دعوت قبول کرنے سے پیہم انکار کیا اور سخت مزاحمت شروع کردی تو حضور ﷺ نے دعا کی کہ اللھم اعنی علیہم بسبع کسبع یوسف، " خدایا، ان کے مقابلے میں میری مدد یوسف کے ہفت سالہ قحط جیسے سات برسوں سے کر "۔ چناچہ ایسا سخت قحط شروع ہوا کہ مردار تک کھانے کی نوبت آگئی۔ اس قحط کی طرف مکی سورتوں میں بکثرت اشارات ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الانعم، 42 تا 44۔ الاعراف 94 تا 99۔ یونس، 11۔ 12۔ 21۔ النحل، 112۔ 113۔ الدخان 10۔ 16 مع حواشی۔