تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 24. An-Noor · Ayah 28
فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ﴿28﴾
- فَاِنْپھر اگر
- لَّمْ تَجِدُوْاتم نہ پاؤ
- فِيْهَآاس میں
- اَحَدًاکسی کو
- فَلَا تَدْخُلُوْهَاتو تم نہ داخل ہو اس میں
- حَتّٰىیہانتک کہ
- يُؤْذَنَاجازت دی جائے
- لَكُمتمہیں
- وَاِنْاور اگر
- قِيْلَ لَكُمُتمہیں کہا جائے
- ارْجِعُوْاتم لوٹ جاؤ
- فَارْجِعُوْاتو تم لوٹ جایا کرو
- هُوَیہی
- اَزْكٰىزیادہ پاکیزہ
- لَكُمْتمہارے لیے
- وَاللّٰهُاور اللہ
- بِمَاوہ جو
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
- عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاوٴ تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دے دی جائے، 26 اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاوٴ تو واپس ہو جاوٴ، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ، 27 اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النُّوْر 26
یعنی کسی کے خالی گھر میں داخل ہوجانا جائز نہیں ہے، الا یہ کہ صاحب خانہ نے آدمی کو خود اس بات کی اجازت دی ہو۔ مثلاً اس نے آپ سے کہہ دیا ہو کہ اگر میں موجود نہ ہوں تو آپ میرے کمرے میں بیٹھ جائیے گا، یا وہ کسی اور جگہ پر ہو اور آپ کی اطلاع ملنے پر وہ کہلا بھیجے کہ آپ تشریف رکھیے، میں ابھی آتا ہوں۔ ورنہ محض یہ بات کہ مکان میں کوئی نہیں ہے، یا اندر سے کوئی نہیں بولتا، کسی کے لیے یہ جائز نہیں کردیتی کہ وہ بلا اجازت داخل ہوجائے۔
سورة النُّوْر 27
یعنی اس پر برا نہ ماننا چاہیے۔ ایک آدمی کو حق ہے کہ وہ کسی سے نہ ملنا چاہے تو انکار کر دے، یا کوئی مشغولیت ملاقات میں مانع ہو تو معذرت کر دے۔ اِرْجِعُوْا (واپس ہوجاؤ) کے حکم کا فقہاء نے یہ مطلب لیا ہے کہ اس صورت میں دروازے کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجانے کی اجازت نہیں ہے بلکہ آدمی کو وہاں سے ہٹ جانا چاہیے۔ کسی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ دوسرے کو ملاقات پر مجبور کرے، یا اس کے دروازے پر ٹھر کر اسے تنگ کرنے کی کوشش کرے۔