Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 14

  1. وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ع﴿14﴾

    1. وَجَحَدُوْااور انہوں نے انکار کیا
    2. بِهَااس کا
    3. وَاسْتَيْقَنَتْهَآحالانکہ اس کا یقین تھا
    4. اَنْفُسُهُمْان کے دل
    5. ظُلْمًاظلم سے
    6. وَّعُلُوًّااور تکبر سے
    7. فَانْظُرْتو دیکھو
    8. كَيْفَکیسا
    9. كَانَہوا
    10. عَاقِبَةُانجام
    11. الْمُفْسِدِيْنَفساد کرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
انہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہو چکے تھے۔17 اب دیکھ لو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 17 قرآن میں دوسرے مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ جب موسیٰ علیہ اللام کے اعلان کے مطابق کوئی بلائے عام مصڑ پر نازل ہوتی تھی تو فرعون حضرت موسیٰ سے کہتا تھا کہ تم اپنے خدا سے دعا کر کے اس بلا کو ٹلوا دو ، پھر جو کچھ تم کہتے ہو وہ ہم مان لیں گے، مگر جب وہ بلا ٹل جاتی تھی تو فرعون اپنی اسی ہٹ دھرمی پر تل جاتا تھا (الاعراف، آیت 134، الزخرف، آیت 50، 49) بائیبل میں بھی اس کا ذکر موجود ہے (خروج، باب 8 تا 10) اور ویسے بھی یہ بات کسی طرح تصور میں نہ آسکتی تھی کہ ایک پورے ملک پر قحط اور طوفان اور ٹڈی دلوں کا ٹوٹ پڑنا اور مینڈکوں اور سرسریوں کے بیشمار لشکروں کا امڈ آنا کسی جادو کا کر شہ ہوسکتا ہے، یہ ایسے کھلے ہوئے معجزے تھے جن کو دیکھ کر ایک بیوقوف سے بیوقوف آدمی بھی یہ سمجھ سکتا تھا کہ پیغمبر کے کہنے پر ایسی ملک یر بلاؤں کا آنا اور پھر اس کے کہنے پر پر ان کا دور ہوجانا صرف اللہ رب العالمین ہی کے تصرف کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ اسی بنا پر حضرت موسیٰ نے فرعون سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ تو خوب جان چکا ہے کہ یہ نشانیاں مالک زمین و آسمان کے سوا کسی اور نے نازل نہیں کی ہیں۔ (بنی اسرائیل، آیت 1002) لیکن جس وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کے س رداروں نے جان بوجھ کر ان کا انکار کیا وہ یہ تھی کہ اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں کی بات مان لیں حالانکہ ان کی قوم ہماری غلام ہے ؟ (المومنون، آیت 47)