Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 72

  1. قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ﴿72﴾

    1. قُلْفرما دیں
    2. عَسٰٓىشاید
    3. اَنْکہ
    4. يَّكُوْنَہوگیا ہو
    5. رَدِفَقریب
    6. لَكُمْتمہارے لیے
    7. بَعْضُکچھ
    8. الَّذِيْوہ جو۔ وہ جس
    9. تَسْتَعْجِلُوْنَتم جلدی کرتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہو۔89
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 89 یہ شاہانہ کلام کا اندازہ ہے۔ قادر مطلق کے کلام میں جب " شاید " اور " کیا عجب " اور " کیا بعید ہے " جیسے الفاظ آتے ہیں تو ان میں شک کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا بلکہ ان سے شان بےنیازی کا اظہار ہوتا ہے، اس کی قدرت ایسی غالب ہے کہ اس کا کسی چیز کو چاہنا اور اس چیز کا ہوجانا گویا ایک ہی بات ہے۔ اس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور وہ نہ ہوسکے، اس لیے اس کا یہ فرمانا کہ " کیا عجب ایسا ہو " یہ معنی رکھتا ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا اگر تم سیدھے نہ ہوئے، ایک معمولی تھا نہ دار بھی اگر بستی کے کسی شخص سے کہہ دے کہ تمہاری شامت پکار رہی ہے تو اسے رات کو نیند نہیں آتی، کجا کہ قادر مطلق کسی سے کہہ دے کہ تمہارا برا وقت کچھ دور نہیں ہے اور پھر وہ بےخوف رہے۔