Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 76

  1. اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿76﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. هٰذَایہ
    3. الْقُرْاٰنَقرآن
    4. يَقُصُّبیان کرتا ہے
    5. عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل پر
    6. اَكْثَرَاکثر
    7. الَّذِيْوہ جو
    8. هُمْوہ
    9. فِيْهِاس میں
    10. يَخْتَلِفُوْنَاختلاف کرتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثراُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں93
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 93 اس فقرے کا تعلق مضمون سابق سے بھی ہے اور مضمون مابعد سے بھی، مضمون سابق سے اس کا تعلق یہ ہے کہ اسی عالم الغیب خدا کے علم کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ ایک امی کی زبان سے اس قرآن میں ان واقعات کی حقیقت کھولی جارہی ہے جو بنی اسرائیل کی تاریخ میں گزرے ہیں، حالانکہ خود علمائے بنی اسرائیل کے درمیان ان کی اپنی تاریخ کے ان واقعات میں اختلاف ہے (اس کے نظائر اسی سورة نمل کے ابتدائی رکوعوں میں گزر چکے ہیں، جیسا کہ ہم نے اپنے حواشی میں واضح کیا ہے) اور مضمون مابعد سے اس کا تعلق یہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان اختلافات کا فیصلہ فرمایا ہے اسی طرح وہ اس اختلاف کا بھی فیصلہ کردے گا جو محمد ﷺ اور ان کے مخالفین کے درمیان برپا ہے۔ وہ کھول کر رکھ دے گا کہ دونوں میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔ چناچہ ان آیات کے نزول پر چند ہی سال گزرے تھے کہ فیصلہ ساری دنیا کے سامنے آگیا۔ اسی عرب کی سرزمین میں، اور اسی قبیلہ قریش میں ایک متنفس بھی ایسا نہ رہا جو اس بات کا قائل نہ ہوگیا ہو کہ حق پر محمد ﷺ تھے نہ کہ ابوجہل اور ابو لہب۔ ان لوگوں کی اپنی اولاد تک مان گئی کہ ان کے باپ غلطی پر تھے۔