تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 84
حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿84﴾
- حَتّىٰٓیہانتک
- اِذَا جَآءُوْجب وہ آجائیں گے
- قَالَفرمائے گا
- اَكَذَّبْتُمْکیا تم نے جھٹلایا
- بِاٰيٰتِيْمیری آیات کو
- وَلَمْ تُحِيْطُوْاحالانکہ احاطہ میں نہیں لائے تھے
- بِهَاان کو
- عِلْمًاعلم کے
- اَمَّاذَایا۔ کیا
- كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَتم کرتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو (ان کا ربّ ان سے)پوچھے گاکہ”تم نے میری آیات کو جھُٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا عِلمی احاطہ نہ کیا تھا؟102 اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے؟103“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 102
یعنی تمہارے جھٹلانے کی وجہ ہرگز نہیں تھی کہ کسی علمی ذریعہ سے تحقیق کر کے تمہیں معلوم ہوگیا تھا کہ یہ آیات جھوٹی ہیں۔ تم نے تحقیق اور غور و فکر کے بغیر بس یوں ہی ہماری آیات کو جھٹلا دیا ؟
سورة النمل 103
یعنی اگر ایسا نہیں ہے تو کیا تم یہ ثابت کرسکتے ہو کہ تم نے تحقیق کے بعد ان آیات کو جھوٹا ہی پایا تھا اور تمہیں واقعی یہ علم حاصل ہوگیا تھا کہ حقیقت نفس الامری وہ نہیں ہے جو ان آیات میں بیان کی گئٰ ہے۔