تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 88
وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ﴿88﴾
- وَتَرَىاور تو دیکھتا ہے
- الْجِبَالَپہاڑ (جمع)
- تَحْسَبُهَاتو خیال کرتا ہے انہیں
- جَامِدَةًجما ہوا
- وَّهِىَاور وہ
- تَمُرُّچلیں گے
- مَرَّ السَّحَابِبادلوں کی طرح چلنا
- صُنْعَ اللّٰهِاللہ کی کاری گری
- الَّذِيْٓوہ جس نے
- اَتْقَنَخوبی سے بنایا
- كُلَّ شَيْءٍہر شے
- اِنَّهٗبیشک وہ
- خَبِيْرٌباخبر
- بِمَااس سے جو
- تَفْعَلُوْنَتم کرتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
آج تُو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اُڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرتت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔107
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 107
یعنی ایسے خدا سے تم یہ توقع نہ رکھو کہ اپنی دنیا میں تم کو عقل وتمیز اور تصرف کے اختیارات دے کر وہ تمہارے اعمال و افعال سے بیخبر رہے گا، اور یہ نہ دیکھے گا کہ اس کی زمین میں تم ان اختیارات کو کیسے استعمال کرتے رہے ہو۔