Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 69

  1. وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ﴿69﴾

    1. وَرَبُّكَاور تمہارا رب
    2. يَعْلَمُوہ جانتا ہے
    3. مَاجو
    4. تُكِنُّچھپا ہے
    5. صُدُوْرُهُمْان کے سینے
    6. وَمَااور جو
    7. يُعْلِنُوْنَوہ ظاہر کرتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
تیرا ربّ جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔91
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة القصص 91 اس سلسلہ کلام میں یہ بات جس مقصد کے لیے ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص یا گروہ دنیا میں لوگوں کے سامنے یہ دعوی کرسکتا ہے کہ جس گمراہی کو اس نے اختیار کیا ہے اس کی صحت پر وہ بڑے معقول وجوہ سے مطمئن ہے، اور اس کے خلاف جو دلائل دیے گئے ہیں ان سے فی الحقیقت اس کا اطمینان نہیں ہوا ہے، اور اس گمراہی کو اس نے کسی برے جذبے سے نہیں بلکہ خاص نیک نیتی کے ساتھ اختیار کیا ہے اور اس کے سامنے کبھی کوئی ایسی چیز نہیں آئی ہے جس سے اس کی غلطی اس پر واضح ہو۔ لیکن اللہ کے سامنے اس کی یہ بات نہیں چل سکتی۔ وہ صرف ظاہری کو نہیں دیکھتا، اس کے سامنے تو آدمی کے دل و دماغ کا ایک ایک گوشہ کھلا ہوا ہے، وہ اس کے علم اور احساسات اور جذبات اور خواہشات اور نیت اور ضمیر، ہر چیز کو براہ راست جانتا ہے، اس کو معلوم ہے کہ کس شخص کو کس کس وقت کن ذرائع سے تنبیہ ہوئی، کن کن راستوں سے حق پہنچا، کس کس طریقے سے باطل کا باطل ہونا اس پر کھلا، اور پھر وہ اصل محرکات کیا تھے جن کی بنا پر اس نے اپنی گمراہی کو ترجیح دی اور حق سے منہ موڑا۔