Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 75

  1. وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ع﴿75﴾

    1. وَنَزَعْنَااور ہم نکال کر لائینگے
    2. مِنْسے
    3. كُلِّ اُمَّةٍہر امت
    4. شَهِيْدًاایک گواہ
    5. فَقُلْنَاپھر ہم کہیں گے
    6. هَاتُوْاتم لاؤ (پیش کرو)
    7. بُرْهَانَكُمْاپنی دلیل
    8. فَعَلِمُوْٓاسو وہ جان لیں گے
    9. اَنَّکہ
    10. الْحَقَّسچی بات
    11. لِلّٰهِاللہ کی
    12. وَضَلَّاور گم ہوجائیں گی
    13. عَنْهُمْان سے
    14. مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَجو وہ گھڑتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے92 پھر کہیں گے کہ”لاوٴ اب اپنی دلیل۔“93 اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے، اور گم ہو جائیں گے ان کے وہ سارے جھُوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة القصص 92 یعنی وہ نبی جس نے اس امت کو خبردار کیا تھا، یا انبیاء کے پیرو وں میں سے کوئی ایسا ہدایت یافتہ انسان جس نے اس امت میں تبلیغ حق کا فریضہ انجام دیا تھا، یا کوئی ایسا ذریعہ جس سے اس امت تک پیغام حق پہنچ چکا تھا۔ سورة القصص 93 یعنی اپنی صفائی میں کوئی ایسی حجت پیش کرو جس کی بنا پر تمہیں معاف کیا جاسکے، یا تو یہ ثابت کرو کہ تم جس شرک، جس انکار آخرت اور جس انکار نبوت پر قائم تھے وہ برحق تھا اور تم نے معقول وجوہ کی بنا پر یہ مسلک اختیار کیا تھا، یا یہ نہیں تو پھر کم از کم یہی ثابت کردو کہ خدا کی طرف سے تم کو اس غلطی پر متنبہ کرنے اور ٹھیک بات تم تک پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔