تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 22
وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ع﴿22﴾
- وَمَآ اَنْتُمْاور نہ تم
- بِمُعْجِزِيْنَعاجز کرنے والے
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- وَلَااور نہ
- فِي السَّمَآءِآسمان میں
- وَمَااور نہیں
- لَكُمْتمہارے لیے
- مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
- مِنْ وَّلِيٍّکوئی حمایتی
- وَّلَااور نہ
- نَصِيْرٍکوئی مددگار
Translation · Tafheem-ul-Quran
تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو نہ آسمان میں،34 اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے۔35
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة العنکبوت 34
یعنی تم کسی ایسی جگہ بھاگ کر نہیں جاسکتے جہاں اللہ کی گرفت سے بچ نکلو، خواہ تم زمین کی تہوں میں کہیں اتر جاؤ یا آسمان کی بلندیوں میں پہنچ جاؤ، بہرحال تمہیں ہر جگہ سے پکڑ کر لایا جائے گا اور اپنے رب کے سامنے تم حاضر کردیے جاؤ گے۔ یہی بات سورة رحمن میں جنوں اور انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے چیلنج کے انداز میں فرمائی گئی ہے کہ تم خدا کی خدائی سے اگر نکل سکتے ہو تو ذرا نکل کر دکھاؤ، اس سے نکلنے کے لیے زور چاہیے اور وہ زور تمہیں حاصل نہیں ہے، اس لیے تم ہرگز نہیں نکل سکتے۔ يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ (آیت 33)
سورة العنکبوت 35
یعنی نہ تمہارا اپنا زور اتنا ہے کہ خدا کی پکڑ سے بچ جاؤ، اور نہ تمہارا کوئی ولی و سرپرست یا مددگار ایسا زور آور ہے کہ خدا کے مقابلے میں تمہیں پناہ دے سکے اور اس کے مواخذہ سے تمہیں بچا لے۔ ساری کائنات میں کسی کی یہ مجال نہیں ہے کہ جن لوگوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کیا ہے، جنہوں نے احکام خداوندی کے آگے جھکنے سے انکار کیا ہے، جنہوں نے جرات و جسارت کے ساتھ خدا کی نافرمانیاں کی ہیں اور اس کی زمین میں ظلم و فساد کے طوفان اٹھائے ہیں، ان کا حمایتی بن کر اٹھ سکے اور خدا کے فیصلہ عذاب کو ان پر نافذ ہونے سے روک سکے، یا خدا کی عدالت میں یہ کہنے کی ہمت کرسکے کہ یہ میرے ہیں اس لیے جو کچھ بھی انہوں نے کیا ہے اسے معاف کردیا جائے۔