تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 69
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ع﴿69﴾
- وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْااور جن لوگوں نے کوشش کی
- فِيْنَاہماری (راہ) میں
- لَنَهْدِيَنَّهُمْہم ضرور انہیں ہدایت دیں گے
- سُبُلَنَا ۭاپنے راستے (جمع)
- وَاِنَّاور بیشک
- اللّٰهَاللہ
- لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَالبتہ ساتھ ہے نیکوکاروں کے
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے،107 اور یقیناً اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة العنکبوت 107
" مجاہدہ " کی تشریح اسی سورة عنکبوت کے 8 میں گزر چکی ہے۔ وہاں یہ فرمایا گیا تھا کہ جو شخص مجاہدہ کرے گا وہ اپنی ہی بھلائی کے لیے کرے گا (آیت 6) یہاں یہ اطمینان دلایا جارہا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اخلاص کے ساتھ دنیا بھر سے کش مکش کا خطرہ مول لے لیتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ ان کے حال پر نہیں چھوڑ دیتا۔ بلکہ وہ ان کی دستگیری و رہنمائی فرماتا ہے اور اپنی طرف آنے کی راہیں ان کے لیے کھول دیتا ہے۔ وہ قدم قدم پر انہیں بتاتا ہے کہ ہماری خوشنودی تم کس طرح حاصل کرسکتے ہو۔ ہر ہر موڑ پر انہیں روشنی دکھاتا ہے کہ راہ راست کدھر ہے اور غلط راستے کون سے ہیں۔ جتنی نیک نیتی اور خیر طلبی ان میں ہوتی ہے اتنی ہی اللہ کی مدد اور توفیق اور ہدایت بھی ان کے ساتھ رہتی ہے۔