Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 117

Tafseer
  1. مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿117﴾

    1. مَثَلُمثال
    2. مَاجو
    3. يُنْفِقُوْنَخرچ کرتے ہیں
    4. فِيْمیں
    5. ھٰذِهِاس
    6. الْحَيٰوةِزندگی
    7. الدُّنْيَادنیا
    8. كَمَثَلِایسی۔ جیسے
    9. رِيْحٍہوا
    10. فِيْھَااس میں
    11. صِرٌّپالا
    12. اَصَابَتْوہ جا لگے
    13. حَرْثَکھیتی
    14. قَوْمٍقوم
    15. ظَلَمُوْٓاانہوں نے ظلم کیا
    16. اَنْفُسَھُمْجانیں اپنی
    17. فَاَھْلَكَتْهُپھر اس کو ہلاک کردے
    18. وَمَا ظَلَمَھُمُاور ظلم نہیں کیا ان پر
    19. اللّٰهُاللہ
    20. وَلٰكِنْبلکہ
    21. اَنْفُسَھُمْاپنی جانیں
    22. يَظْلِمُوْنَوہ ظلم کرتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنھوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے۔91 اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا درحقیقت یہ خود اپنےاوپر ظلم کر رہے ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اٰلِ عِمْرٰن 91 اس مثال میں کھیتی سے مراد یہ کشت حیات ہے جس کی فصل آدمی کو آخرت میں کاٹنی ہے۔ ہوا سے مراد وہ اوپری جزبہ خیر ہے جس کی بنا پر کفار رفاہ عام کے کاموں اور خیرات وغیرہ میں دولت صرف کرتے ہیں۔ اور پالے سے مراد صحیح ایمان اور ضابطہ خداوندی کی پیروی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ان کو پوری زندگی غلط ہو کر رہ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس تمثیل سے یہ بتانا چاہتا ہے کہ جس طرح ہوا کھیتیوں کی پرورش کے لیے مفید ہے لیکن اگر اسی ہوا میں پالا ہو تو کھیتی کو پرورش کرنے کے بجائے اسے تباہ کر ڈالتی ہے، اسی طرح خیرات بھی اگرچہ انسان کے مزرعہ آخرت کو پرورش کرنے والی چیز ہے، مگر جب اس کے اندر کفر کا زہر ملا ہوا ہو تو یہی خیرات مفید ہونے کے بجائے الٹی مہلک بن جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کا مالک اللہ ہے، اور اس مال کا مالک بھی اللہ ہی ہے جس میں انسان تصرف کر رہا ہے، اور یہ مملکت بھی اللہ ہی کی ہے جس کے اندر رہ کر انسان کام کر رہا ہے۔ اب اگر اللہ کا یہ غلام اپنے مالک کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم نہیں کرتا، یا اس کی بندگی کے ساتھ کسی اور کی ناجائز بندگی بھی شریک کرتا ہے، اور اللہ کے مال اور اس کی مملکت میں تصرف کرتے ہوئے اس کے قانون و ضابطہ کی اطاعت نہیں کرتا، تو اس کے یہ تمام تصرفات از سر تا پا جرم بن جاتے ہیں۔ اجر ملنا کیسا وہ تو اس کا مستحق ہے کہ ان تمام حرکات کے لیے اس پر فوجداری کا مقدمہ قائم کیا جائے۔ اس کی خیرات کی مثال ایسی ہے جیسے ایک نوکر اپنے آقا کی اجازت کے بغیر اس کا خزانہ کھولے اور جہاں جہاں اپنی دانست میں مناسب سمجھے خرچ کر ڈالے۔