Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 140

Tafseer
  1. اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ﴿140﴾

    1. اِنْاگر
    2. يَّمْسَسْكُمْتمہیں پہنچا
    3. قَرْحٌزخم
    4. فَقَدْتو البتہ
    5. مَسَّپہنچا
    6. الْقَوْمَقوم
    7. قَرْحٌزخم
    8. مِّثْلُهٗاس جیسا
    9. وَتِلْكَاور یہ
    10. الْاَيَّامُایام
    11. نُدَاوِلُھَاہم باری باری بدلتے ہیں انکو
    12. بَيْنَ النَّاسِلوگوں کے درمیان
    13. وَلِيَعْلَمَاور تاکہ معلوم کرلے
    14. اللّٰهُاللہ
    15. الَّذِيْنَجو لوگ
    16. اٰمَنُوْاایمان لائے
    17. وَيَتَّخِذَاور بنائے
    18. مِنْكُمْتم سے
    19. شُهَدَآءَشہید (جمع
    20. وَاللّٰهُاور اللہ
    21. لَا يُحِبُّدوست نہیں رکھتا
    22. الظّٰلِمِيْنَظالم (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہےتو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔100 یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کو ن ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی(راستی کے) گواہ ہوں۔۔۔۔101 کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اٰلِ عِمْرٰن 100 اشارہ ہے جنگ بدر کی طرف۔ اور کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس چوٹ کو کھا کر کافر پست ہمت نہ ہوئے تو اس چوٹ پر تم کیوں ہمت ہارو۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 101 اصل الفاظ ہیں وَیَتَّخِذَ مِنْکُم شُھَدَآءَ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تم میں سے کچھ شہید لینا چاہتا تھا، یعنی کچھ لوگوں کو شہادت کی عزت بخشنا چاہتا تھا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اور منافقین کے اس مخلوط گروہ میں سے جس پر تم اس وقت مشتمل ہو، ان لوگوں کو الگ چھانٹ لینا چاہتا تھا جو حقیقت میں شُھَدَآ عَلَی النَّاس ہیں، یعنی اس منصب جلیل کے اہل ہیں جس پر ہم نے امت مسلمہ کو سرفراز کیا ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 3 : 140