Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 188

  1. لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿188﴾

    1. لَا تَحْسَبَنَّآپ ہرگز نہ سمجھیں
    2. الَّذِيْنَجو لوگ
    3. يَفْرَحُوْنَخوش ہوتے ہیں
    4. بِمَآاس پر جو
    5. اَتَوْاانہوں نے کیا
    6. وَّيُحِبُّوْنَاور وہ چاہتے ہیں
    7. اَنْکہ
    8. يُّحْمَدُوْاان کی تعریف کی جائے
    9. بِمَااس پر جو
    10. لَمْ يَفْعَلُوْاانہوں نے نہیں کیا
    11. فَلَاپس نہ
    12. تَحْسَبَنَّھُمْسمجھیں آپ انہیں
    13. بِمَفَازَةٍرہا شدہ
    14. مِّنَسے
    15. الْعَذَابِعذاب
    16. وَلَھُمْاور ان کے لیے
    17. عَذَابٌعذاب
    18. اَلِيْمٌدردناک
Translation · Tafheem-ul-Quran
تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتُوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف انھیں حاصل ہو جوفی الواقع انہوں نےنہیں کیے ہیں۔133 حقیقت میں ان کے لیے درد ناک سزا تیار ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اٰلِ عِمْرٰن 133 مثلا وہ اپنی تعریف میں یہ سننا چاہتے ہیں کہ حضرت بڑے متقی ہیں، دیندار اور پارسا ہیں خادم دین ہیں۔ حامی شرع متین ہیں، مصلح و مزکی ہیں، حالانکہ حضرت کچھ بھی نہیں۔ یا اپنے حق میں یہ ڈھنڈورا پٹوانا چاہتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے ایثار پیشہ اور مخلص اور دیانت دار رہنما ہیں اور انہوں نے ملت کی بڑی خدمت کی ہے۔ حالانکہ معاملہ برعکس ہے۔