تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 17
فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ﴿17﴾
- فَسُبْحٰنَپس پاکیزگی (بیان کرو)
- اللّٰهِاللہ
- حِيْنَجب
- تُمْسُوْنَتم شام کرو (شام کے وقت)
- وَحِيْنَاور جب
- تُصْبِحُوْنَتم صبح کرو (صبح کے وقت)
Translation · Tafheem-ul-Quran
22 پس تسبیح کرو اللہ کی23 جبکہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 22
یہ " پس " اس معنی میں ہے کہ جب تمہیں یہ معلوم ہوگیا کہ ایمان و عمل صالح کا انجام وہ کچھ اور کفر و تکذیب کا انجام یہ کچھ ہے تو تمہیں یہ طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ نیز یہ " پس " اس معنی میں بھی ہے کہ مشرکین و کفار حیات اخروی کو ناممکن قرار دے کر اللہ تعالیٰ کو دراصل عاجز و درماندہ قرار دے رہے ہیں۔ لہذا تم اس کے مقابلہ میں اللہ کی تسبیح کرو اور اس کمزوری سے اس کے پاک ہونے کا اعلان کرو۔ اس ارشاد کے مخاطب نبی ﷺ اور آپ کے واسطے سے تمام اہل ایمان ہیں۔
سورة الروم 23
اللہ کی تسبیح کرنے سے مراد ان تمام عیوب اور نقائص اور کمزوریوں سے، جو مشرکین اپنے شرک اور انکار آخرت سے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، اس ذات بےہمتا کے پاک اور منزہ ہونے کا اعلان و اظہار کرنا ہے۔ اس اعلان و اظہار کی بہترین صورت نماز ہے۔ اسی بنا پر ابن عباس، مجاہد، قتادہ، ابن زید ؓ اور دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں تسبیح کرنے سے مراد نماز پڑھنا ہے۔ اس تفسیر کے حق میں یہ صریح قرینہ خود اس آیت میں موجود ہے کہ اللہ کی پاکی بیان کرنے کے لیے اس میں چند خاص اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اگر محض یہ عقیدہ رکھنا مقصود ہو کہ اللہ تمام عیوب و نقائص سے منزہ ہے تو اس کے لیے صبح و شام اور ظہر و عصر کے اوقات کی پابندی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ یہ عقیدہ تو مسلمان کو ہر وقت رکھنا چاہیے۔ اسی طرح اگر محض زبان سے اللہ کی پاکی کا اظہار مقصود ہو، تب بھی ان اوقات کی تخصیص کے کوئی معنی نہیں، کیونکہ یہ اظہار تو مسلمان کو ہر موقع پر کرنا چاہیے۔ اس لیے اوقات کی پابندی کے ساتھ تسبیح کرنے کا حکم لا محالہ اس کی ایک خاص عملی صورت ہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور یہ عملی صورت نماز کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔