Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 18

  1. وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ﴿18﴾

    1. وَلَهُاور اس کے لیے
    2. الْحَمْدُتمام تعریفیں
    3. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    4. وَالْاَرْضِاور زمین
    5. وَعَشِيًّااور بعد زوال (تیسرے پہر)
    6. وَّحِيْنَاور جب
    7. تُظْهِرُوْنَتم ظہر کرتے ہو (ظہر کے وقت)
Translation · Tafheem-ul-Quran
آسمانوں اور زمین  میں اسی کے لیے حمد ہے۔ اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔24
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 24 اس آیت میں نماز کے چار اوقات کی طرف صاف اشارہ ہے۔ فجر، مغرب، عصر اور ظہر۔ اس کے علاوہ مزید اشارات جو قرآن مجید میں اوقات نماز کی طرف کیے گئے ہیں، حسب ذیل ہیں اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ (نبی اسرائیل، آیت 78) " نماز قائم کرو آفتاب ڈھلنے کے بعد سے رات کی تاریکی تک، اور فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو "۔ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ (ہود، آیت 114) " اور نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر "۔ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَاف النَّهَارِ (طہ، آیت 130) " اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور رات کی کچھ گھڑیوں میں پھر تسبیح کرو، اور دن کے کناروں پر "۔ ان میں سے پہلی آیت بتاتی ہے کہ نماز کے اوقات زوال آفتاب کے بعد سے عشا تک ہیں، اور اس کے بعد پھر فجر کا وقت ہے۔ دوسری آیت میں دن کے دونوں سروں سے مراد صبح اور مغرب کے اوقات ہیں اور کچھ رات گزرنے پر سے مراد عشا کا وقت۔ تیسری آیت میں قبل طلوع آفتاب سے مراد فجر اور قبل غروب سے مراد عصر۔ رات کی گھڑیوں میں مغرب اور عشا دونوں شامل ہیں۔ اور دن کے کنارے تین ہیں، ایک صبح، دوسرے زوال آفتاب، تیسرے مغرب۔ اس طرح قرآن مجید مختلف مقامات پر نماز کے ان پانچوں اوقات کی طرف اشارہ کرتا ہے جن پر آج دنیا بھر کے مسلمان نماز پڑھتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ محض ان آیات کو پڑھ کر کوئی شخص بھی اوقات نماز متعین نہ کرسکتا تھا جب تک کہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے معلم قرآن محمد ﷺ خود اپنے قول اور عمل سے ان کی طرف رہنمائی نہ فرماتے۔ یہاں ذرا تھوڑی دیر ٹھہر کر منکرین حدیث کی اس جسارت پر غور کیجیے کہ وہ " نماز پڑھنے " کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نماز جو آج مسلمان پڑھ رہے ہیں یہ سرے سے وہ چیز ہی نہیں ہے جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ قرآن تو اقامت صلوۃ کا حکم دیتا ہے اور اس سے مراد نماز پڑھنا نہیں بلکہ " نظام ربوبیت " قائم کرنا ہے۔ اب ذرا ان سے پوچھیے کہ وہ کون سا نرالا نظام ربوبیت ہے جسے یا تو طلوع آفتاب سے پہلے قائم کیا جاسکتا ہے یا پھر زوال آفتاب کے بعد سے کچھ رات گزرنے تک ؟ اور وہ کون سا نظام ربوبیت ہے جو خاص جمعہ کے دن قائم کیا جانا مطلوب ہے ؟ اِذَا نُوْدِيَ للصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ (الجمعہ، آیت 9) اور نظام ربوبیت کی آخر وہ کون سی خاص قسم ہے کہ اسے قائم کرنے کے لیے جب آدمی کھڑا ہو تو پہلے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں دھو لے اور سر پر مسح کرلے ورنہ وہ اسے قائم نہیں کرسکتا ؟ اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ (المائدہ، آیت 6) اور نظام ربوبیت کے اندر آخر یہ کیا خصوصیت ہے کہ اگر آدمی حالت جناب میں ہو تو جب تک وہ غسل نہ کرلے اسے قائم نہیں کرسکتا ؟ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا (النساء، آیت 43) اور یہ کیا معاملہ ہے کہ اگر آدمی عورت کو چھو بیٹھا ہو اور پانی نہ ملے تو اس عجیب و غریب نظام ربوبیت کو قائم کرنے کے لیے اسے پاک مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے چہرے اور منہ پر ملنا ہوگا ؟ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ (المائدہ، آیت 6) اور یہ کیسا عجیب نظام ربوبیت ہے کہ اگر سفر پیش آجائے تو آدمی اسے پورا قائم کرنے کے بجائے آدھا ہی قائم کرلے ؟ وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ (النساء، آیت 101) پھر یہ کیا لطیفہ ہے کہ اگر جنگ کی حالت ہو تو فوج کے آدھے سپاہی ہتھیار لیے ہوئے امام کے پیچھے " نظام ربوبیت " قائم کرتے رہیں اور آدھے دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہیں، اس کے بعد جب پہلا گروہ امام کے پیچھے " نظام ربوبیت " قائم کرتے ہوئے ایک سجدہ کرلے تو وہ اٹھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے چلا جائے اور دوسرا گروہ اس کی جگہ آکر امام کے پیچھے اس " نظام ربوبیت " کو قائم کرنا شروع کردے وَاِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ مَّعَكَ وَلْيَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَھُمْ ۣفَاِذَا سَجَدُوْا فَلْيَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَاۗىِٕكُمْ ۠ وَلْتَاْتِ طَاۗىِٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ (النساء، آیت 102) قرآن مجید کی یہ ساری آیات صاف بتارہی ہیں کہ اقامت صلوۃ سے مراد وہی نماز قائم کرنا ہے جو مسلمان دنیا بھر میں پڑھ رہے ہیں، لیکن منکرین حدیث ہیں کہ خود بدلنے کے بجائے قرآن کو بدلنے پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بالکل ہی بےباک نہ ہوجائے وہ اس کے کلام کے ساتھ یہ مذاق نہیں کرسکتا جو یہ حضرات کر رہے ہیں۔ یا پھر قرآن کے ساتھ یہ کھیل وہ شخص کھیل سکتا ہے جو اپنے دل میں اسے اللہ کا کلام نہ سمجھتا ہو اور محض دھوکا دینے کے لیے قرآن قرآن پکار کر مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہو۔ (اس سلسلہ میں آگے حاشیہ 50 بھی ملاحظۃ ہو)