تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 28
ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿28﴾
- ضَرَبَاس نے بیان کی
- لَكُمْتمہارے لیے
- مَّثَلًاایک مثال
- مِّنْسے
- اَنْفُسِكُمْ ۭتمہاری جانیں (حال)
- هَلْ لَّكُمْکیا تمہارے لیے
- مِّنْسے
- مَّا مَلَكَتْجو مالک ہوئے
- اَيْمَانُكُمْتمہارے دائیں ہاتھ (غلام)
- مِّنْ شُرَكَآءَکوئی شریک
- فِيْمیں
- مَا رَزَقْنٰكُمْجو ہم نے تمہیں رزق دیا
- فَاَنْتُمْسو (تاکہ) تم
- فِيْهِاس میں
- سَوَآءٌبرابر
- تَخَافُوْنَهُمْ(کیا) تم ان سے ڈرتے ہو
- كَخِيْفَتِكُمْجیسے تم ڈرتے ہو
- اَنْفُسَكُمْ ۭاپنی جانیں (اپنوں سے)
- كَذٰلِكَاسی طرح
- نُفَصِّلُہم کھول کر بیان کرتے ہیں
- الْاٰيٰتِنشانیاں
- لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَعقل والوں کے لیے
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ تمہیں39 خود تمہاری اپنی ہی ذات سےایک مثال دیتا ہے۔ کیا تمہارے اُن غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو؟40 --۔۔۔۔ اس طرح ہم آیا ت کھول کر پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 39
یہاں تک توحید اور آخرت کا بیان ملا جلا چل رہا تھا۔ اس میں جن نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ان کے اندر توحید کے دلائل بھی ہیں اور وہی دلائل یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آخرت کا آنا غیر ممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد آگے خالص توحید پر کلام شروع ہورہا ہے۔
سورة الروم 40
مشرکین یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ زمین و آسمان اور اس کی سب چیزوں کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے، اس کی مخلوقات میں سے بعض کو خدائی صفات و اختیارات میں اس کا شریک ٹھہراتے تھے، اور ان سے دعائیں مانگتے، ان کے آگے نذریں اور نیازیں پیش کرتے، اور مراسم عبودیت بجا لاتے تھے۔ ان بناوٹی شریکوں کے بارے میں ان کا اصل عقیدہ اس تلبیہ کے الفاظ میں ہم کو ملتا ہے جو خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت وہ زبان سے ادا کرتے تھے۔ وہ اس موقع پر کہتے تھے لبیک اللھم لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ و ما ملک (طبرانی عن ابن عباس) " میں حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جو تیرا اپنا ہے، تو اس کا بھی مالک ہے اور جو کچھ اس کی ملکیت ہے اس کا بھی تو مالک ہے "۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں اسی شرک کی تردید فرما رہا ہے۔ تمثیل کا منشا یہ ہے کہ خدا کے دیے ہوئے مال میں خدا ہی کے پیدا کیے ہوئے وہ انسان جو اتفاقا تمہاری غلامی میں آگئے ہیں تمہارے تو شریک نہیں قرار پاسکتے، مگر تم نے یہ عجیب دھاندلی مچا رکھی ہے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی کائنات میں خدا کی پیدا کردہ مخلوق کو بےتکلف اس کے ساتھ خدائی کا شریک ٹھہراتے ہو۔ اس طرح کی احمقانہ باتیں سوچتے ہوئے آخر تمہاری عقل کہاں ماری جاتی ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم۔ النحل حاشیہ 62)