Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 29

  1. بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿29﴾

    1. بَلِبلکہ
    2. اتَّبَعَپیروی کی
    3. الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓاجن لوگوں نے ظلم کیا (ظالم)
    4. اَهْوَآءَهُمْاپنی خواہشات
    5. بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚعلم کے بغیر (بےجانے)
    6. فَمَنْ يَّهْدِيْتو کون ہدایت دے گا
    7. مَنْجسے
    8. اَضَلَّ اللّٰهُ ۭگمراہ کرے اللہ
    9. وَمَااور نہیں
    10. لَهُمْان کے لیے
    11. مِّنْکوئی
    12. نّٰصِرِيْنَمددگار
Translation · Tafheem-ul-Quran
مگر یہ ظالم بے سمجھے بوجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب کون اس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو۔41 ایسے لوگوں کا تو کوئی مددگار نہیں ہو سکتا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 41 یعنی جب کوئی شخص سیدھی سیدھی عقل کی بات نہ خود نہ سوچے اور نہ کسی کے سمجھانے سے سمجھنے کے لیے تیار ہو تو پھر اس کی عقل پر اللہ کی پھٹکار پڑجاتی ہے اور اس کے بعد ہر وہ چیز جو کسی معقول آدمی کو حق بات تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہے، وہ اس ضدی جہالت پسند انسان کو الٹی مزید گمراہی میں مبتلا کرتی چلی جاتی ہے۔ یہی کیفیت ہے جسے " بھٹکانے " کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ راستی پسند انسان جب اللہ سے ہدایت کی توفیق طلب کرتا ہے تو اللہ اس کی طلب صادق کے مطابق اس کے لیے زیادہ سے زیادہ اسباب ہدایت پیدا فرما دیتا ہے، اور گمراہی پسند انسان جب گمراہ ہی ہونے پر اصرار کرتا ہے تو پھر اللہ اس کے لیے وہی اسباب پیدا کرتا چلا جاتا ہے جو اسے بھٹکا کر روز بروز حق سے دور لیے چلے جاتے ہیں۔