Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 31

  1. مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ﴿31﴾

    1. مُنِيْبِيْنَرجوع کرنے والے
    2. اِلَيْهِاس کی طرف
    3. وَاتَّقُوْهُاور تم ڈرو اس سے
    4. وَاَقِيْمُوااور قائم رکھو تم
    5. الصَّلٰوةَنماز
    6. وَلَا تَكُوْنُوْااور نہ ہو تم
    7. مِنَسے
    8. الْمُشْرِكِيْنَشرک کرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
(قائم ہو جاؤ اس بات پر) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے،48 اور ڈرو اس سے49 اور نماز قائم کرو،50 اور نہ ہو جاؤ ان مشرکین میں سے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 48 اللہ کی طرف رجوع سے مراد یہ ہے کہ جس نے بھی آزادی و خود مختاری کا رویہ اختیار کرکے اپنے مالک حقیقی سے انحراف کیا ہو، یا جس نے بھی بندگی غیر کا طریقہ اختیار کر کے اپنے اصلی و حقیقی رب سے بےوفائی کی ہو، وہ اپنی اس روش سے باز آجائے اور اسی ایک خدا کی بندگی کی طرف پلٹ آئے جس کا بندہ حقیقت میں وہ پیدا ہوا ہے۔ سورة الروم 49 یعنی تمہارے دل میں اس بات کا خوف ہونا چاہیے کہ اگر اللہ کے پیدائشی بندے ہونے کے باوجود تم نے اس کے مقابلے میں خود مختاری کا رویہ اختیار کیا، یا اس کے بجائے کسی اور کی بندگی کی تو اس غداری و نمک حرامی کی سخت سزا تمہیں بھگتنی ہوگی، اس لیے تمہیں ایسی ہر روش سے بچنا چاہیے جو تم کو خدا کے غضب کا مستحق بناتی ہو۔ سورة الروم 50 اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اس کے غضب کا خوف، دونوں قلب کے افعال ہیں۔ اس قلبی کیفیت کو اپنے ظہور اور اپنے استحکام کے لیے لازما کسی ایسے جسمانی فعل کی ضرورت ہے جس سے خارج میں بھی ہر شخص کو معلوم ہوجائے کہ فلاں شخص واقعی اللہ وحدہ لا شریک کی بندگی کی طرف پلٹ آیا ہے، اور آدمی کے اپنے نفس میں بھی اس رجوع وتقوی کی کیفیت کو ایک عملی ممارست کے ذریعہ سے پے در پے نشو ونما نصیب ہوتا چلا جائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ اس ذہنی تبدیلی کا حکم دینے کے بعد فورا ہی اس جسمانی عمل، یعنی اقامت صلوۃ کا حکم دیتا ہے۔ آدمی کے ذہن میں جب تک کوئی خیال محض خیال کی حد تک رہتا ہے، اس میں استحکام اور پائیداری نہیں ہوتی۔ اس خیال کے ماند پڑجانے کا بھی خطرہ رہتا ہے اور بدل جانے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ اس کے مطابق کام کرنے لگتا ہے تو وہ خیال اس کے اندر جڑ پکڑ لیتا ہے، اور جوں جوں وہ اس پر عمل کرتا جاتا ہے، اس کا استحکام بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس عقیدہ و فکر کا بدل جانا یا ماند پڑجانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جاتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو رجوع الی اللہ اور خوف خدا کو مستحکم کرنے کے لیے ہر روز پانچ وقت پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے سے بڑھ کر کوئی عمل کارگر نہیں ہے۔ کیونکہ دوسرا جو عمل بھی ہو، اس کی نوبت دیر دیر میں آتی ہے یا متفرق صورتوں میں مختلف مواقع پر آتی ہے۔ لیکن نماز ایک ایسا عمل ہے جو ہرچند گھنٹوں کے بعد ایک ہی متعین صورت میں آدمی کو دائما کرنا ہوتا ہے، اور اس میں ایمان و اسلام کا وہ پورا سبق جو قرآن نے اسے پڑھایا ہے، آدمی کو بار بار دہرانا ہوتا ہے تاکہ وہ اسے بھولنے نہ پائے۔ مزید برآں کفار اور اہل ایمان دونوں پر یہ ظاہر ہونا ضروری ہے کہ انسانی آبادی میں سے کس کس نے بغاوت کی روش چھوڑ کر اطاعت رب کی روش اختیار کرلی ہے۔ اہل ایمان پر اس کا ظہور اس لیے درکار ہے کہ ان کی ایک جماعت اور سوسائٹی بن سکے اور وہ خدا کی راہ میں ایک دوسرے سے تعاون کرسکیں اور ایمان و اسلام سے جب بھی ان کے گروہ کے کسی شخص کا تعلق ڈھیلا پڑنا شروع ہو اسی وقت کوئی علامت فورا ہی تمام اہل ایمان کو اس کی حالت سے باخبر کردے۔ کفار پر اس کا ظہور اس لیے ضروری ہے کہ ان کے اندر کی سوئی ہوئی فطرت اپنے ہم جنس انسانوں کو خداوند حقیقی کی طرف بار بار پلٹتے دیکھ کر جاگ سکے، اور جب تک وہ نہ جاگے ان پر خدا کے فرمانبرداروں کی عملی سرگرمی دیکھ دیکھ کر دہشت طاری ہوتی رہے۔ ان دونوں مقاصد کے لیے بھی اقامت صلوۃ ہی سب سے زیادہ موزوں ذریعہ ہے۔ اس مقام پر یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اقامت صلوۃ کا یہ حکم مکہ معظمہ کے اس دور میں دیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں کی ایک مٹھی بھر جماعت کفار قریش کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہی تھی اور اس کے بعد بھی 9 برس تک پستی رہی۔ اس وقت دور دور بھی کہیں اسلامی حکومت کا نام و نشان نہیں تھا۔ اگر نماز اسلامی حکومت کے بغیر بےمعنی ہوتی، جیسا کہ بعض نادان سمجھتے ہیں، یا اقامت صلوۃ سے مراد نماز قائم کرنا سرے سے ہوتا ہی نہیں بلکہ " نظام ربوبیت " چلانا ہوتا، جیسا کہ منکرین سنت کا دعوی ہے، تو اس حالت میں قرآن مجید کا یہ حکم دینا آخر کیا معنی رکھتا ہے ؟ اور یہ حکم آنے کے بعد 9 سال تک نبی ﷺ اور مسلمان اس حکم کی تعمیل آخر کس طرح کرتے رہے ؟