تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 41
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿41﴾
- ظَهَرَظاہر ہوگیا
- الْفَسَادُفساد
- فِي الْبَرِّخشکی میں
- وَالْبَحْرِاور دریا (تری)
- بِمَااس سے جو
- كَسَبَتْکمایا
- اَيْدِي النَّاسِلوگوں کے ہاتھ
- لِيُذِيْقَهُمْتاکہ وہ انہیں (مزہ) چکھائے
- بَعْضَبعض
- الَّذِيْ عَمِلُوْاانہوں نے کیا (اعمال)
- لَعَلَّهُمْشاید وہ
- يَرْجِعُوْنَباز آجائیں وہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزّہ چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں۔64
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 64
یہ پھر اس جنگ کی طرف اشارہ ہے جو اس وقت روم و ایران کے درمیان برپا تھی جس کی آگ نے پورے شرق اوسط کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ " لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی " سے مراد وہ فسق و فجور اور ظلم و جور ہے جو شرک یا دہریت کا عقیدہ اختیار کرنے اور آخرت کو نظر انداز کردینے سے لازما انسانی اخلاق و کردار میں رونما ہوتا ہے۔ " شاید کہ وہ باز آئیں " کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت کی سزا سے پہلے اس دنیا میں انسانوں کو ان کے تمام اعمال کا نہیں، بلکہ بعض اعمال کا برا نتیجہ اس لیے دکھاتا ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھیں اور اپنے تخیلات کی غلطی کو محسوس کر کے اس عقیدہ صالحہ کی طرف رجوع کریں جو انبیاء (علیہم السلام) ہمیشہ سے انسان کے سامنے پیش کرتے چلے آرہے ہیں، جس کو اختیار کرنے کے سوا انسانی اعمال کو صحیح بنیاد پر قائم کرنے کی کوئی دوسری صورت نہیں ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، التوبہ، آیت 126۔ الرعد آیت 31۔ السجدہ 21۔ الطور 47۔