تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 55
وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ﴿55﴾
- وَيَوْمَاور جس دن
- تَقُوْمُقائم ہوگی
- السَّاعَةُقیامت
- يُقْسِمُقسم کھائیں گے
- الْمُجْرِمُوْنَمجرم (جمع)
- مَا لَبِثُوْاوہ نہیں رہے
- غَيْرَ سَاعَةٍ ۭایک گھڑی سے زیادہ
- كَذٰلِكَاسی طرح
- كَانُوْاوہ تھے
- يُؤْفَكُوْنَاوندھے جاتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جب وہ ساعت برپا ہوگی80 تو مجرم قسمیں کھاکھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں،81 اسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے۔82
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 80
یعنی قیامت جس کے آنے کی خبر دی جارہی ہے۔
سورة الروم 81
یعنی مرنے کے وقت سے قیامت کی اس گھڑی تک۔ ان دونوں ساعتوں کے درمیان چاہے دس بیس ہزار برس ہی گزر چکے ہوں، مگر وہ محسوس کریں گے کہ چند گھنٹے پہلے ہم سوئے تھے اور اب اچانک ایک حادثہ نے ہمیں جگا اٹھایا ہے۔
سورة الروم 82
یعنی ایسے ہی غلط اندازے یہ لوگ دنیا میں بھی لگاتے تھے۔ وہاں بھی یہ حقیقت کے اداراک سے محروم تھے اسی وجہ سے یہ حکم لگایا کرتے تھے کہ کوئی قیامت ویامت نہیں آنی، مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں، اور کسی خدا کے سامنے حاضر ہو کر ہمیں حساب نہیں دینا۔