Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 16

  1. یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ﴿16﴾

    1. يٰبُنَيَّاے میرے بیٹے
    2. اِنَّهَآبیشک وہ
    3. اِنْ تَكُاگر ہو
    4. مِثْقَالَ حَبَّةٍوزن (برابر) دانہ
    5. مِّنْسے (کے)
    6. خَرْدَلٍرائی
    7. فَتَكُنْپھر وہ ہو
    8. فِيْمیں
    9. صَخْرَةٍسخت پتھر
    10. اَوْیا
    11. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    12. اَوْیا
    13. فِي الْاَرْضِزمین میں
    14. يَاْتِ بِهَالے آئے گا اسے
    15. اللّٰهُ ۭاللہ
    16. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    17. لَطِيْفٌباریک بین
    18. خَبِيْرٌخبردار
Translation · Tafheem-ul-Quran
(اور لقمان 27 نے کہا تھا کہ)”کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھُپی ہوئی ہو ، اللہ اُسے نکال لائے گا۔ 28 وہ باریک بین اور باخبر ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 27 لقمان کے دوسرے نصائح کا ذکر یہاں یہ بتانے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ عقائد کی طرح اخلاق کے متعلق بھی جو تعلیمات نبی ﷺ پیش کر رہے ہیں وہ بھی عرب میں کوئی انوکھی باتیں نہیں ہیں۔ سورة لُقْمٰن 28 یعنی اللہ کے علم سے اور اس کی گرفت سے کوئی چیز بچ نہیں سکتی۔ چٹان کے اندر ایک دانہ تمہارے لیے مخفی ہوسکتا ہے، مگر اس کے لیے عیاں ہے۔ آسمانوں میں کوئی ذرہ تم سے بعید ترین ہوسکتا ہے، مگر اللہ کے لیے وہ بہت قریب ہے۔ زمین کی تہوں میں پڑی ہوئی کوئی چیز تمہارے لیے سخت تاریکی میں ہے مگر اس کے لیے بالکل روشنی میں ہے۔ لہٰذا تم کہیں کسی حال میں بھی نیکی یا بدی کا کوئی کام ایسا نہیں کرسکتے جو اللہ سے مخفی رہ جائے۔ وہ نہ صرف یہ کہ اس سے واقف ہے، بلکہ جب محاسبہ کا وقت آئے گا تو وہ تمہاری ایک ایک حرکت کا ریکارڈ سامنے لا کر رکھ دے گا۔