تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 20
اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ﴿20﴾
- اَلَمْ تَرَوْاکیا تم نے نہیں دیکھا
- اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
- سَخَّرَمسخر کیا
- لَكُمْتمہارے لیے
- مَّاجو کچھ
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَمَااور جو کچھ
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- وَاَسْبَغَاور بھرپور دیں
- عَلَيْكُمْتم پر (تمہیں)
- نِعَمَهٗاپنی نعمتیں
- ظَاهِرَةًظاہر
- وَّبَاطِنَةً ۭاور پوشیدہ
- وَمِنَاور بعض
- النَّاسِلوگ
- مَنْجو
- يُّجَادِلُجھگڑتا ہے
- فِي اللّٰهِاللہ (کے بارہ) میں
- بِغَيْرِبغیر
- عِلْمٍعلم
- وَّلَا هُدًىاور بغیر ہدایت
- وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍاور بغیر کتاب روشن
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخّر کر رکھی ہیں 35 اور اپنی کُھلی اور چھپی نعمتیں 36 تم پر تمام کر دی ہیں ؟ اس پر حال یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں 37 بغیر اس کے کے ان کے پاس کوئی علم ہو ،یا ہدایت ، یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب۔ 38
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 35
کسی چیز کو کسی کے لیے مسخر کرنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ چیز اس کے تابع کردی جائے اور اسے اختیار دے دیا جائے کہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے اور جس طرح چاہے اسے استعمال کرے۔ دوسری یہ کہ اس چیز کو ایسے ضابطہ کا پابند کردیا جائے جس کی بدولت اس شخص کے لیے نافع ہوجائے اور اس کے مفاد کی خدمت کرتی رہے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایک ہی معنی میں مسخ نہیں کردیا ہے، بلکہ بعض چیزیں پہلے معنی میں مسخر کی ہیں اور بعض دوسرے معنی میں۔ مثلاً ہوا، پانی، مٹی، آگ، نباتات، معدنیات، مویشی وغیرہ بیشمار چیزیں پہلے معنی میں ہمارے لیے مسخر ہیں، اور چاند، سورج، وغیرہ دوسرے معنی میں۔
سورة لُقْمٰن 36
کھلی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو آدمی کو کسی نہ کسی طرح محسوس ہوتی ہیں، یا جو اس کے علم میں ہیں۔ اور چھپی ہوئی نعمتوں سے وہ نعمتیں مراد ہیں جنہیں آدمی نہ جانتا ہے نہ محسوس کرتا ہے۔ بےحد و حساب چیزیں ہیں جو انسان کے اپنے جسم میں اور اس کے باہر دنیا میں اس کے مفاد کے لیے کام کر رہی ہیں، مگر انسان کو ان کا پتہ تک نہیں ہے کہ اس کے خالق نے اس کی حفاظت کے لیے، اس کی رزق رسانی کے لیے، اس کے نشو و نما کے لیے، اور اس کی فلاح کے لیے کیا کیا سر و سامان فراہم کر رکھا ہے۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں انسان تحقیق کے جتنے قدم آگے بڑھاتا جا رہا ہے، اس کے سامنے خدا کی بہت سی وہ نعمتیں بےنقاب ہوتی جا رہی ہیں جو پہلے اس سے بالکل مخفی تھیں، اور آج تک جن نعمتوں پر سے پردہ اٹھا ہے وہ ان نعمتوں کے مقابلے میں درحقیقت کسی شمار میں بھی نہیں ہیں جن پر سے اب تک پردہ نہیں اٹھا ہے۔
سورة لُقْمٰن 37
یعنی اس طرح کے مسائل میں جھگڑے اور بحثیں کرتے ہیں کہ مثلاً اللہ ہے بھی یا نہیں ؟ اکیلا وہی ایک خدا ہے یا دوسرے خدا بھی ہیں ؟ اس کی صفات کیا ہیں اور کیسی ہیں ؟ اپنی مخلوقات سے اسکے تعلق کی کیا نوعیت ہے ؟ وغیرہ
سورة لُقْمٰن 38
یعنی نہ تو ان کے پاس کوئی ایسا ذریعۂ علم ہے جس سے انہوں نے براہ راست خود حقیقت کا مشاہدہ یا تجربہ کرلیا ہو، نہ کسی ایسے رہنما کی رہنمائی انہیں حاصل ہے جس نے حقیقت کا مشاہدہ کر کے انہیں بتایا ہو، اور نہ کوئی کتاب الٰہی ان کے پاس ہے جس پر یہ اپنے عقیدے کی بنیاد رکھتے ہوں۔