تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 32
وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ﴿32﴾
- وَاِذَااور جب
- غَشِيَهُمْان پر چھا جاتی ہے
- مَّوْجٌموج
- كَالظُّلَلِسائبانوں کی طرح
- دَعَوُا اللّٰهَوہ اللہ کو پکارتے ہیں
- مُخْلِصِيْنَخالص کر کے
- لَهُ الدِّيْنَ ڬاس کے لیے دین (عبادت)
- فَلَمَّاپھر جب
- نَجّٰىهُمْاس نے انہیں بچا لیا
- اِلَى الْبَرِّخشکی کی طرف
- فَمِنْهُمْتو ان میں کوئی
- مُّقْتَصِدٌ ۭمیانہ رو
- وَمَا يَجْحَدُاور انکار نہیں کرتا
- بِاٰيٰتِنَآہماری آیتوں کا
- اِلَّاسوائے
- كُلُّہر
- خَتَّارٍعہد شکن
- كَفُوْرٍناشکرا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جب (سمندر میں) ان لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھا جا تی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اسی کے لیے خالص کر کے، پھر جب وہ بچاکر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے 57 ، اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدار اور ناشکرا ہے۔ 58
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 57
اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ اقتصاد کو اگر راست روی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان میں سے کم ہی ایسے نکلتے ہیں جو وہ وقت گزر جانے کے بعد بھی اس توحید پر ثابت قدم رہتے ہیں جس کا اقرار انہوں نے طوفان میں گھر کر کیا تھا اور یہ سبق ہمیشہ کے لیے ان کو راست رو بنا دیتا ہے۔ اور اگر اقتصاد بمعنی توسُّط و اعتدال لیا جائے تو اس کا ایک مطلب یہ ہوگا کہ ان میں سے بعض لوگ اپنے شر و دہریت کے عقیدے میں اس شدت پر قائم نہیں رہتے جس پر اس تجربے سے پہلے تھے، اور دوسرا مطلب یہ ہوگا کہ وہ وقت گزر جانے کے بعد ان میں سے بعض لوگوں کے اندر اخلاص کی وہ کیفیت ٹھنڈی پڑجاتی ہے جو اس وقت پیدا ہوئی تھی۔ اغلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ ذو معنی فقرہ بیک وقت ان تینوں کیفیتوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال فرمایا ہو۔ مدعا غالباً یہ بتانا ہے کہ بحری طوفان کے وقت تو سب کا دماغ درستی پر آجاتا ہے اور شرک و دہریت کو چھوڑ کر سب کے سب خدائے واحد کو مدد کے لیے پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن خیریت سے ساحل پر پہنچ جانے کے بعد ایک قلیل تعداد ہی ایسی نکلتی ہے جس نے اس تجربے سے کوئی پائدار سبق حاصل کیا ہو۔ پھر یہ قلیل تعداد بھی تین قسم کے گروہوں میں بٹ جاتی ہے۔ ایک وہ جو ہمیشہ کے لیے سیدھا ہوگیا۔ دوسرا وہ جس کا کفر کچھ اعتدال پر آگیا۔ تیسری وہ جس کے اندر اس ہنگامی اخلاص میں سے کچھ نہ کچھ باقی رہ گیا۔
سورة لُقْمٰن 58
یہ دو صفات ان دو صفتوں کے مقابلے میں ہیں جن کا ذکر اس سے پہلی کی آیت میں کیا گیا تھا۔ غدار وہ شخص ہے جو سخت بےوفا ہو اور اپنے عہد و پیماں کا کوئی پاس نہ رکھے۔ اور ناشکرا وہ ہے جس پر خواہ کتنی ہی نعمتوں کی بارش کردی جائے وہ احسان مان کر نہ دے اور اپنے محسن کے مقابلے میں سرکشی سے پیش آئے یہ صفات جن لوگوں میں پائی جاتی ہیں وہ خطرے کا وقت ٹل جانے کے بعد بےتکلف اپنے کفر، اپنی دہریت اور اپنے شرک کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں مانتے کہ انہوں نے طوفان کی حالت میں خدا کے ہونے اور ایک ہی خدا کے ہونے کی کچھ نشانیاں خارج میں بھی اور خود اپنے نفس میں بھی پائی تھیں اور ان کا خدا کو پکارنا اسی وجدان حقیقت کا نتیجہ تھا۔ ان میں سے جو دہریے ہیں وہ اپنے اس فعل کی یہ توجیہ کرتے ہیں کہ وہ تو ایک کمزوری تھی جو بحالت اضطراب ہم سے سرزد ہوگئی، ورنہ درحقیقت خدا ودا کوئی نہ تھا جس نے ہمیں طوفان سے بچایا ہو، ہم تو فلاں فلاں اسباب و ذرائع سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ رہے مشرکین، تو وہ بالعموم یہ کہتے ہیں کہ فلاں بزرگوں، یا دیوی دیوتاؤں کا سایہ ہمارے سر پر تھا جس کے طفیل ہم بچ گئے، چناچہ ساحل پر پہنچتے ہی وہ اپنے معبودان باطل کے شکریے ادا کرنے شروع کردیتے ہیں اور انہی کے آستانوں پر چڑھاوے چڑھانے لگتے ہیں۔ یہ خیال تک انہیں نہیں آتا کہ جب ساری امیدوں کے سہارے ٹوٹ گئے تھے اس وقت اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہ تھا جس کا دامن انہوں نے تھاما ہو۔