تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 4
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ﴿4﴾
- الَّذِيْنَجو لوگ
- يُقِيْمُوْنَقائم کرتے ہیں
- الصَّلٰوةَنماز
- وَيُؤْتُوْنَاور ادا کرتے ہیں
- الزَّكٰوةَزکوۃ
- وَهُمْاور وہ
- بِالْاٰخِرَةِآخرت پر
- هُمْ يُوْقِنُوْنَوہ یقین رکھتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ 3
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 3
یہ مراد نہیں ہے کہ جن لوگوں کو " نیکو کار " کہا گیا ہے وہ بس ان ہی تین صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ دراصل پہلے " نیکو کار " کا عام لفظ استعمال کر کے اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا کہ وہ ان تمام برائیوں سے رکنے والے ہیں جن سے یہ کتاب روکتی ہے، اور ان سارے نیک کاموں پر عمل کرنے والے ہیں جن کا یہ کتاب حکم دیتی ہے۔ پھر ان " نیکو کار " لوگوں کی تین اہم صفات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ باقی ساری نیکیوں کا دارومدار ان ہی تین چیزوں پر ہے۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں، جس سے خدا پرستی و خدا ترسی ان کی مستقل عادت بن جاتی ہے۔ وہ زکوٰۃ دیتے ہیں، جس سے ایثار و قربانی کا جذبہ ان کے اندر مستحکم ہوتا ہے، متاع دنیا کی محبت دبتی ہے رضائے اِلٰہی کی طلب ابھرتی ہے۔ اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، جس سے ان کے اندر ذمہ داری و جواب دہی کا احساس ابھرتا ہے، جس کی بدولت وہ اس جانور کی طرح نہیں رہتے جو چراگاہ میں چھوٹا پھر رہا ہو، بلکہ اس انسان کی طرح ہوجاتے ہیں جسے یہ شعور حاصل ہو کہ میں خود مختار نہیں ہوں، کسی آقا کا بندہ ہوں اور اپنی ساری کار گزاریوں پر اپنے آقا کے سامنے جواب دہی کرنی ہے۔ ان تینوں خصوصیات کی وجہ یہ " نیکوکار " اس طرح کے نیکو کار نہیں رہتے جن سے اتفاقاً نیکی سرزد ہوجاتی ہے اور بدی بھی اسی شان سے سرزد ہو سکتی ہے جس شان سے نیکی سرزد ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس یہ خصوصیات ان کے نفس میں ایک مستقل نظام فکر و اخلاق پیدا کردیتی ہیں جس کے باعث ان سے نیکی کا صدور باقاعدہ ایک ضابطہ کے مطابق ہوتا ہے اور بدی اگر سرزد ہوتی بھی ہے تو محض ایک حادثہ کے طور پر ہوتی ہے۔ کوئی گہرے محرکات ایسے نہیں ہوتے جو ان کے نظام فکر و اخلاق سے ابھرتے اور ان کو اپنے اقتضائے طبع سے بدی کی راہ پر لے جاتے ہوں۔