Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 5

  1. یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ﴿5﴾

    1. يُدَبِّرُوہ تدبیر کرتا ہے
    2. الْاَمْرَتمام کام
    3. مِنَسے
    4. السَّمَآءِآسمان
    5. اِلَى الْاَرْضِزمین تک
    6. ثُمَّپھر
    7. يَعْرُجُوہ رجوع کرے گا
    8. اِلَيْهِاس کی طرف
    9. فِيْ يَوْمٍایک دن میں
    10. كَانَہے
    11. مِقْدَارُهٗٓاس کی مقدار
    12. اَلْفَ سَنَةٍایک ہزار سال
    13. مِّمَّااس سے جو
    14. تَعُدُّوْنَتم شمار کرتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ آسمان سے زمین تک دُنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس کی تدبیر روداد اوپر اُس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے۔ 9
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة السَّجْدَة 8 یعنی تمہارا اصل خدا تو خالق زمین و آسمان ہے۔ تم کس خیال خام میں مبتلا ہو کہ کائنات کی اس عظیم الشان سلطنت میں اس کے سوا دوسروں کو کار ساز سمجھ بیٹھے ہو۔ اس پوری کائنات کا اور اس کی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ اس کی ذات کے سوا ہر دوسری چیز جو یہاں پائی جاتی ہے، مخلوق ہے۔ اور اللہ اس دنیا کو بنا دینے کے بعد کہیں جا کر سو بھی نہیں گیا ہے، بلکہ اپنی اس سلطنت کا تخت نشین اور حاکم و فرماروا بھی وہ آپ ہی ہے۔ پھر تمہاری عقل آخر کہاں چرنے چلے گئی ہے کہ تم مخلوقات میں سے چند ہستیوں کو اپنی قسمتوں کا مالک قرار دے رہے ہو ؟ اگر اللہ تمہاری مدد نہ کرے تو ان میں سے کس کی یہ طاقت ہے کہ تمہاری مدد کرسکے ؟ اگر اللہ تمہیں پکڑے تو ان میں سے کس کا یہ زور ہے کہ تمہیں چھڑا سکے ؟ اگر اللہ سفارش نہ سنے تو ان میں سے کون یہ بل بوتا رکھتا ہے کہ اس سے اپنی سفارش منوا لے ؟ سورة السَّجْدَة 9 یعنی تمہارے نزدیک جو ایک ہزار برس کی تاریخ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں گویا ایک دن کا کام ہے جس کی اسکیم آج کارکنان قضا و قدر کے سپرد کی جاتی ہے اور کل وہ اس کی روداد اس کے حضور پیش کرتے ہیں تاکہ دوسرے دن (یعنی تمہارے حساب سے ایک ہزار برس) کا کام ان کے سپرد کیا جائے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون دو مقامات پر اور بھی آیا ہے جنہیں نگاہ میں رکھنے سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کفار عرب کہتے تھے کہ محمد ﷺ کو نبوت کا دعویٰ لے کر سامنے آئے کئی برس گزر چکے ہیں۔ وہ بار بار ہم سے کہتے ہیں کہ اگر میری اس دعوت کو تم لوگ قبول نہ کرو گے اور مجھے جھٹلاؤ گے تو تم پر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر کئی برس سے وہ اپنی یہ بات دوہرائے جا رہے ہیں اور آج تک عذاب نہ آیا، حالانکہ ہم ایک دفعہ نہیں ہزاروں مر تبہ انہیں صاف صاف جھٹلا چکے ہیں۔ ان کی یہ دھمکیاں واقعی سچی ہوتیں تو ہم پر نہ معلوم کبھی کا عذاب آ چکا ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ سُورۂ حج میں فرماتا ہے وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللہُ وَعْدَہٗ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ۔ (آیت 47) یہ لوگ عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا۔ مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تم لوگوں کے شمار سے ہزار برس جیسا ہوا کرتا ہے۔ دوسری جگہ اسی بات کا جواب یہ دیا گیا ہے سَاَلَ سَآئِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ (۔ لا) لِلْکٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَہٗ دَافِعٌ (۔ لا) مِّنَ اللّٰہ ذِی الْمَعَارِجِ۔ تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَۃُ والرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ۔ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیلاً ا ِنَّھُمْ یَرَوْنَہ بَعِیْدًا (۔ لا) وَّنَرٰہ قَرِیْباً ط (المعارج۔ آیات 1۔ 7) پوچھنے والا پوچھتا ہے اس عذاب کو جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے لیے جس کو دفع کرنے والا کوئی نہیں ہے، اس خدا کی طرف سے جو چڑھتے درجوں والا ہے (یعنی درجہ بدرجہ کام کرنے والا)۔ چڑھتے ہیں اس کی طرف ملائکہ اور روح ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے۔ پس اے نبی ! صبر جمیل سے کام لو۔ یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ ان تمام ارشادات سے جو بات ذہن نشین کرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں خدا کے فیصلے دنیا کی گھڑیوں اور جنتریوں کے لحاظ سے نہیں ہوتے۔ کسی قوم سے اگر کہا جائے کہ تم فلاں روش اختیار کرو گے تو اس کا انجام تمہیں یہ کچھ دیکھنا ہوگا، تو وہ قوم سخت احمق ہوگی اگر اس کا مطلب سمجھے کہ آج وہ روش اختیار کی جائے اور کل اس کے برے نتائج سامنے آجائیں۔ ظہور نتائج کے لیے دن اور مہینے اور سال تو کیا چیز ہیں، صدیاں بھی کوئی بڑی مدت نہیں ہیں۔