تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 16
فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ﴿16﴾
- فَاَعْرَضُوْاپھر انہوں نے منہ موڑ لیا
- فَاَرْسَلْنَاتو ہم نے بھیجا
- عَلَيْهِمْان پر
- سَيْلَ الْعَرِمِسیلاب بند سے (رکا ہوا)
- وَبَدَّلْنٰهُمْاور ہم نے انہیں بدل دیے
- بِجَنَّتَيْهِمْان کے دو باغوں کے بدلے
- جَنَّتَيْنِدو باغ
- ذَوَاتَىْوالے
- اُكُلٍمیوہ
- خَمْطٍبدمزہ
- وَّاَثْلٍاور جھاڑ
- وَّشَيْءٍاور کچھ
- مِّنْ سِدْرٍبیریاں
- قَلِيْلٍتھوڑی
Translation · Tafheem-ul-Quran
مگر وہ منہ موڑ گئے۔ 28 آخر کار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا 29 اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاوٴ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں 30
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 28
یعنی بندگی و شکر گزاری کے بجائے انہوں نے نافرمانی و نمک حرامی کی روش اختیار کرلی۔
سورة سَبـَا 29
اصل میں لفظ سَیْلُ الْعَرِم استعمال کیا گیا ہے۔ عَرِم جنوبی عرب کی زبان کے لفظ عرمن سے ماخوذ ہے جس کے معنی " بند " کے ہیں۔ یمن کے کھنڈروں میں جو قدیم کتبات موجودہ زمانے میں دستیاب ہوئے ہیں ان میں یہ لفظ اس معنی میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ مثلاً 542 ء یا 543 ء کا ایک کتبہ جو یمن کے حبشی گورنر ابرہہ نے سدّ مارب کی مرمت کرانے کے بعد نصب کرایا تھا اس میں وہ اس لفظ کو بار بار بند کے معنی میں استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا سیل العَرِم سے مراد وہ سیلاب ہے جو کسی بند کے ٹوٹنے سے آئے۔
سورة سَبـَا 30
یعنی سیل العَرِم کے آنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارا علاقہ برباد ہوگیا۔ سبا کے لوگوں نے پہاڑوں کے درمیان بند باندھ باندھ کر جو نہریں جاری کی تھیں وہ سب ختم ہوگئیں اور آب پاشی کا پورا نظام درہم برہم ہوگیا۔ اس کے بعد وہی علاقہ جو کبھی جنت نظیر بنا ہوا تھا خود رو جنگلی درختوں سے بھر گیا اور اس میں کھانے کے قابل اگر کوئی چیز باقی رہ گئی تو وہ محض جھاڑی بوٹی کے بیر تھے۔