تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 35
وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ﴿35﴾
- وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
- نَحْنُہم
- اَكْثَرُزیادہ
- اَمْوَالًامال میں
- وَّاَوْلَادًا ۙاور اولاد میں
- وَّمَااور نہیں
- نَحْنُہم
- بِمُعَذَّبِيْنَعذاب دیئے جانے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ ہم تم سے زیادہ مال اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہرگز سزا پانے والے نہیں ہیں 55
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 55
ان کا استدلال یہ تھا کہ ہم تم سے زیادہ اللہ کے پیارے اور پسندیدہ لوگ ہیں، جبھی تو اس نے ہم کو ان نعمتوں سے نوازا ہے جن سے تم محروم ہو، یا کم از کم ہم سے فروتر ہو۔ اگر اللہ ہم سے راضی نہ ہوتا تو یہ سر و سامان اور یہ دولت و حشمت ہمیں کیوں دیتا۔ اب یہ بات ہم کیسے باور کرلیں کہ اللہ یہاں تو ہم پر نعمتوں کی بارش کر رہا ہے اور آخرت میں جا کر ہمیں عذاب دے گا۔ عذاب ہونا ہے تو ان پر ہونا ہے جو یہاں اس کی نوازشوں سے محروم ہیں۔
قرآن مجید میں دنیا پرستوں کی اس غلط فہمی کا بھی جگہ جگہ ذکر کر کے اس کی تردید کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں البقرہ، 126۔ 212۔ التوبہ، 55۔ 69۔ ہود، 3۔ 27۔۔ الرعد، 26۔ الکہف، 34 تا 43۔ مریم، 73 تا 77۔ طٰہ، 131۔ المومنون، 55۔ 61۔ الشعراء، 111۔ القصص، 76 تا 83۔ الوم، 9۔ المدثر، 11 تا 26۔ الفجر 15 تا 20۔