Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 46

  1. قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ﴿46﴾

    1. قُلْفرما دیں
    2. اِنَّمَآ اَعِظُكُمْمیں صرف نصیحت کرتا ہوں تمہیں
    3. بِوَاحِدَةٍ ۚایک بات کی
    4. اَنْ تَقُوْمُوْاکہ تم کھڑے ہوجاؤ
    5. لِلّٰهِاللہ کے واسطے
    6. مَثْنٰىدو ، دو
    7. وَفُرَادٰىاور اکیلے اکیلے
    8. ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا ۣپھر تم غور کرو
    9. مَا بِصَاحِبِكُمْنہیں تمہارے اس ساتھی کو
    10. مِّنْ جِنَّةٍ ۭکوئی جنون
    11. اِنْنہیں
    12. هُوَوہ
    13. اِلَّامگر۔ صرف
    14. نَذِيْرٌڈرانے والے
    15. لَّكُمْتمہیں
    16. بَيْنَ يَدَيْآگے ( آنے سے پہلے)
    17. عَذَابٍ شَدِيْدٍسخت عذاب
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبیؐ ، اِن سے کہوکہ”میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مِل کر اپنا دماغ لڑاوٴ اور سوچو، تمہارے صاحب میں آخر ایسی کونسی بات ہے جو جُنون کی ہو 66 ؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبّہ کرنے والا ہے۔ 67“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 66 یعنی اغراض اور خواہشات سے پاک ہو کر خالصتہ للہ غور کرو۔ ہر شخص الگ الگ بھی نیک نیتی کے ساتھ سوچے اور دو دو چار چار آدمی سر جوڑ کر بھی بےلاگ طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ بحث کر کے تحقیق کریں کہ آخر وہ کیا بات ہے جس کی بنا پر آج تم اس شخص کو مجنون ٹھہرا رہے ہو جسے کل تک تم اپنے درمیان نہایت دانا آدمی سمجھتے تھے۔ آخر نبوت سے تھوڑی ہی مدت پہلے کا تو واقعہ تھا کہ تعمیر کعبہ کے بعد حجر اسود نصب کرنے کے مسئلے پر جب قبائل قریش باہم لڑ پڑے تھے تو تم ہی لوگوں نے بالاتفاق محمد ﷺ کو حکم تسلیم کیا تھا اور انہوں نے ایسے طریقے سے اس جھگڑے کو چکایا تھا جس پر تم سب مطمئن ہوگئے تھے۔ جس شخص کی عقل و دانش کا یہ تجربہ تمہاری ساری قوم کو ہوچکا ہے، اب کیا بات ایسی ہوگئی کہ تم اسے مجنون کہنے لگے ؟ ہٹ دھرمی کی تو بات ہی دوسری ہے، مگر کیا واقعی تم اپنے دلوں میں بھی وہی کچھ سمجھتے ہو جو اپنی زبانوں سے کہتے ہو ؟ سورة سَبـَا 67 یعنی کیا یہی وہ قصور ہے جس کی بنا پر تم اسے جنون کا مریض ٹھہراتے ہو ؟ کیا تمہارے نزدیک عقلمند وہ ہے جو تمہیں تباہی کے راستے پر جاتے دیکھ کر کہے کہ شاباش، بہت اچھے جا رہے ہو، اور مجنون وہ ہے جو تمہیں برا وقت آنے سے پہلے خبردار کرے اور فساد کی جگہ صلاح کی راہ بتائے۔