Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 47

  1. قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ﴿47﴾

    1. قُلْفرمادیں
    2. مَا سَاَلْتُكُمْجو میں نے مانگا ہو تم سے
    3. مِّنْ اَجْرٍکوئی اجر
    4. فَهُوَتو وہ
    5. لَكُمْ ۭتمہارا ہے
    6. اِنْنہیں
    7. اَجْرِيَمیرا اجر
    8. اِلَّامگر۔ صرف
    9. عَلَي اللّٰهِ ۚاللہ کے ذمے
    10. وَهُوَاور وہ
    11. عَلٰيہر۔ کی
    12. كُلِّ شَيْءٍہر شے
    13. شَهِيْدٌاطلاع رکھنے والا ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اِن سے کہو”اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو وہ تم ہی کو مبارک رہے 68۔ میرا اجر تو اللہ کے ذمّہ ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ 69“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 68 اصل الفاظ ہیں مَا سَاَلْتُکُمْ مِنْ اَجْرٍ فَھُوَ لَکُمْ۔ اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو اوپر ہم نے ترجمہ میں بیان کیا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہاری بھلائی کے سوا میں اور کچھ نہیں چاہتا، میرا اجر بس یہی ہے کہ تم درست ہوجاؤ۔ اس مضمون کو دوسری جگہ قرآن مجید میں یوں ادا کیا گیا ہے قُلْ مَآ اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ الیٰ رَبِّہ سَبِیْلاً۔ (الفرقان 57) اے نبی، ان سے کہو میں اس کام پر تم سے کوئی اجر اس کے سوا نہیں مانگتا کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے۔ سورة سَبـَا 69 یعنی الزام لگانے والے جو کچھ چاہیں الزام لگاتے رہیں، مگر اللہ سب کچھ جانتا ہے، وہ گواہ ہے کہ میں ایک بےغرض انسان ہوں، یہ کام اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں کر رہا ہوں۔