تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 54
وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ع﴿54﴾
- وَحِيْلَاور آڑ کردی گئی
- بَيْنَهُمْان کے درمیان
- وَبَيْنَاور درمیان
- مَا يَشْتَهُوْنَجو وہ چاہتے تھے
- كَمَاجیسے
- فُعِلَکیا گیا
- بِاَشْيَاعِهِمْان کے ہم جنسوں کے ساتھ
- مِّنْ قَبْلُ ۭاس سے قبل
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- كَانُوْاوہ تھے
- فِيْمیں
- شَكٍّشک
- مُّرِيْبٍتردد میں ڈالنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُس وقت جس چیز کی یہ تمنّا کر رہے ہوں گے اس سے محرُوم کر دیے جائیں گے جس طرح اِن کے پیش رَو ہم مشرب محروم ہو ں گے۔ یہ بڑے گمراہ کُن شک میں پڑے ہوئے تھے۔ 76
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 76
درحقیقت شرک اور دہریت اور انکار آخرت کے عقائد کوئی شخص بھی یقین کی بنا پر اختیار نہیں کرتا اور نہیں کرسکتا۔ اس لیے کہ یقین صرف علم سے حاصل ہوتا ہے، اور کسی شخص کو بھی یہ علم حاصل نہیں ہے کہ خدا نہیں ہے، یا بہت سے خدا ہیں یا خدائی کے اختیارات میں بہت سی ہستیوں کو دخل حاصل ہے، یا آخرت نہیں ہونی چاہیے۔ پس جس نے بھی دنیا میں یہ عقائد اختیار کیے ہیں اس نے محض قیاس و گمان پر ایک عمارت کھڑی کرلی ہے جس کی اصل بنیاد شک کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور یہ شک انہیں سخت گمراہی کی طرف لے گیا ہے۔ انہیں خدا کے وجود میں شک ہوا۔ انہیں توحید کی صداقت میں شک ہوا۔ انہیں آخرت کے آنے میں شک ہوا۔ حتّیٰ کہ اس شک کو انہوں نے یقین کی طرح دلوں میں بٹھا کر انبیاء کی کوئی بات نہ مانی اور اپنی زندگی کی پوری مہلت عمل ایک غلط راستے میں کھپا دی۔