تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 35. Faatir · Ayah 37
وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ع﴿37﴾
- وَهُمْاور وہ
- يَصْطَرِخُوْنَچلائیں گے
- فِيْهَا ۚدوزخ میں
- رَبَّنَآاے ہمارے پروردگار
- اَخْرِجْنَاہمیں نکال لے
- نَعْمَلْہم عمل کریں
- صَالِحًانیک
- غَيْرَبرعکس
- الَّذِيْاس کے جو
- كُنَّا نَعْمَلُ ۭہم کرتے تھے
- اَوَکیا
- لَمْ نُعَمِّرْكُمْہم نے تمہیں عمر نہ دی تھی
- مَّا يَتَذَكَّرُکہ نصیحت پکڑ لیتا وہ
- فِيْهِاس میں
- مَنْجو۔ جس
- تَذَكَّرَنصیحت پکڑتا
- وَجَآءَكُمُاور آیا تمہارے پاس
- النَّذِيْرُ ۭڈرانے والا
- فَذُوْقُوْاسو چکھو تم
- فَمَاپس نہیں
- لِلظّٰلِمِيْنَظالموں کے لیے
- مِنْ نَّصِيْرٍکوئی مددگار
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے کہ”اے ہمارے ربّ ، ہمیں یہاں سے نکال لے تاکہ ہم نیک عمل کریں اُن اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے۔“ (انہیں جواب دیا جائے گا)”کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتا تھا؟ 63 اور تمہارے پاس متنبّہ کرنے والا بھی آچکا تھا۔ اب مزا چکھو۔ ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة فَاطِر 63
اس سے مراد ہر وہ عمر ہے جس میں آدمی اس قابل ہوسکتا ہو کہ اگر وہ نیک و بد اور حق و باطل میں امتیاز کرنا چاہے تو کرسکے اور گمراہی چھوڑ کر ہدایت کی طرف رجوع کرنا چاہے تو کرسکے۔ اس عمر کو پہنچنے سے پہلے اگر کوئی شخص مر چکا ہو تو اس آیت کی رو سے اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ البتہ جو اس عمر کو پہنچ چکا ہو وہ اپنے عمل کے لیے لازماً جواب دہ قرار پائے گا، اور پھر اس عمر کے شروع ہوجانے کے بعد جتنی مدت بھی وہ زندہ رہے اور سنبھل کر راہ راست پر آنے کے لیے جتنے مواقع بھی اسے ملتے چلے جائیں اتنی ہی اس کی ذمہ داری شدید تر ہوتی چلے جائے گی، یہاں تک کہ جو شخص بڑھاپے کو پہنچ کر بھی سیدھا نہ ہو اس کے لیے کسی عذر کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ یہی بات ہے جو ایک حدیث میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت سہل بن سعد ساعدی نے نبی ﷺ سے نقل فرمائی ہے کہ جو شخص کم عمر پائے اس کے لیے تو عذر کا موقع ہے، مگر 60 سال اور اس سے اوپر عمر پانے والے کے لیے کوئی عذر نہیں ہے (بخاری، احمد، نَسائی، ابن جریر اور ابن ابی حاتم وغیرہ)۔