Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 142

Tafseer
  1. فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ﴿142﴾

    1. فَالْتَقَمَهُپھر اسے نگل لیا
    2. الْحُوْتُمچھلی
    3. وَهُوَاور وہ
    4. مُلِيْمٌملامت کرنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
آخرکار مچھلی نے اسے نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الصّٰٓفّٰت 79 ان فقروں پر غور کرنے سے جو صورت واقعہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ (1) حضرت یونس جس کشتی میں سوار ہوئے تھے وہ اپنی گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی (Overloaded) تھی۔ (2) قرعہ اندازی کشتی میں ہوئی، اور غالباً اس وقت جب بحری سفر کے دوران میں یہ محسوس ہوا کہ بوجھ کی زیادتی کے سبب سے تمام مسافروں کی جان خطرے میں پڑگئی ہے۔ لہٰذا قرعہ اس غرض کے لیے ڈالا گیا کہ جس کا نام قرعہ میں نکلے اسے پانی میں پھینک دیا جائے۔ (3) قرعہ میں حضرت یونس ہی کا نام نکلا، وہ سمندر میں پھینک دیے گئے اور ایک مچھلی نے ان کو نگل لیا۔ (4) اس ابتلا میں حضرت یونس اس لیے مبتلا ہوئے کہ وہ اپنے آقا (یعنی اللہ تعالیٰ) کی اجازت کے بغیر اپنے مقام ماموریت سے فرار ہوگئے تھے۔ اس معنی پر لفظ اَبَقَ بھی دلالت کرتا ہے جس کی تشریح اوپر 78 میں گزرچکی ہے، اور اسی معنی پر لفظ مُلِیْم بھی دلالت کرتا ہے۔ مُلیم ایسے قصور وار آدمی کو کہتے ہیں جو اپنے قصور کی وجہ سے آپ ہی ملامت کا مستحق ہوگیا ہو، خواہ اسے ملامت کی جائے یا نہ کی جائے (یقال قد الام الرجل اذا اتیٰ ما یلام علیہ من الامر و ان لم یُلِم۔ ابن جریر)