تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 116
Tafseerاِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا﴿116﴾
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- لَا يَغْفِرُنہیں بخشتا
- اَنْ يُّشْرَكَکہ شریک ٹھہرایا جائے
- بِهٖاس کا
- وَيَغْفِرُاور بخشے گا
- مَاجو
- دُوْنَسوا
- ذٰلِكَاس
- لِمَنْجس کو
- يَّشَآءُوہ چاہے
- وَمَنْاور جس
- يُّشْرِكْشریک ٹھہرایا
- بِاللّٰهِاللہ کا
- فَقَدْ ضَلَّسو گمراہ ہوا
- ضَلٰلًۢاگمراہی
- بَعِيْدًادور
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ کے ہاں144 بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتاہے جسے وہ معاف کر نا چاہے۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 144
اس رکوع میں اوپر کے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ اپنی جاہلیت کے طیش میں آکر یہ شخص جس راہ کی طرف گیا ہے وہ کیسی راہ ہے، اور صالحین کے گروہ سے الگ ہو کر جن لوگوں کا ساتھ اس نے اختیار کیا ہے وہ کیسے لوگ ہیں۔