تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 117
Tafseerاِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ﴿117﴾
- اِنْ يَّدْعُوْنَوہ نہیں پکارتے
- مِنْ دُوْنِهٖٓاس کے سوا
- اِلَّآ اِنَاثًامگر عورتیں
- وَاِنْاور نہیں
- يَّدْعُوْنَپکارتے ہیں
- اِلَّامگر
- شَيْطٰنًاشیطان
- مَّرِيْدًاسرکش
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں145
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 145
شیطان کو اس معنی میں تو کوئی بھی معبود نہیں بناتا کہ اس کے آگے مراسم پرستش ادا کرتا ہو اس کو الوہیت کا درجہ دیتا ہو، البتہ اسے معبود بنانے کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس کی باگیں شیطان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ اور جدھر جدھر وہ چلاتا ہے ادھر ادھر چلتا ہے گویا کہ یہ اس کا بندہ ہے اور وہ اس کا خدا، اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے احکام کی بےچون وچرا اطاعت اور اندھی پیروی کرنے کا نام بھی عبادت ہے اور جو شخص اس طرح کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اس کی عبادت بجا لاتا ہے۔