Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 10

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ﴿10﴾

    1. اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْابیشک۔ جن لوگوں نے۔ کفر کیا
    2. يُنَادَوْنَوہ پکارے جائیں گے
    3. لَمَقْتُ اللّٰهِالبتہ اللہ کا بیزار ہونا
    4. اَكْبَرُبڑا
    5. مِنْسے
    6. مَّقْتِكُمْتمہارا بیزار ہونا
    7. اَنْفُسَكُمْاپنے تئیں
    8. اِذْجب
    9. تُدْعَوْنَتم بلائے جاتے تھے
    10. اِلَى الْاِيْمَانِایمان کی طرف
    11. فَتَكْفُرُوْنَتو تم کفر کرتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
جن لوگوں نے کُفر کیا ہے ، قیامت کے روز اُن کو پکار کر کہا جائے گا”آج تمہیں جتنا شدید غصّہ اپنے اُوپر آرہا ہے، اللہ تم پر اُس سے زیادہ غضب ناک اُس وقت ہوتا تھا جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کُفر کرتے تھے۔“ 14
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 14 یعنی کفار جب قیامت کے روز دیکھیں گے کہ انہوں نے دنیا میں شرک و دہریت، انکار آخرت اور رسولوں کی مخالفت پر اپنے پورے کارنامۂ حیات کی بنیاد رکھ کر کتنی بڑی حماقت کی ہے، اور اس حماقت کی بدولت اب وہ کس انجام بد سے دوچار ہوئے ہیں، تو وہ اپنی انگلیاں چبائیں گے اور جھنجھلا جھنجھلا کر اپنے آپ کو خود کو سنے لگیں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے پکار کر کہیں گے کہ آج تو تمہیں اپنے اوپر بڑا غصہ آ رہا ہے، مگر کل جب تمہیں اس انجام سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور دوسرے نیک لوگ راہ راست کی طرف دعوت دیتے تھے اور تم ان کی دعوت کو ٹھکراتے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ کا غضب اس سے زیادہ تم پر بھڑکتا تھا۔