تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 11
قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ﴿11﴾
- قَالُوْاوہ کہیں گے
- رَبَّنَآاے ہمارے رب
- اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِتو نے ہمیں مردہ رکھا۔ دو بار
- وَاَحْيَيْتَنَااور زندگی بخشی ہمیں
- اثْنَتَيْنِدو بار
- فَاعْتَرَفْنَاپس ہم نے اعتراف کرلیا
- بِذُنُوْبِنَااپنے گناہوں کا
- فَهَلْتو کیا
- اِلٰى خُرُوْجٍطرف ۔ نکلنا
- مِّنْ سَبِيْلٍکوئی سبیل
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ کہیں گے”اے ہمارے ربّ ، تُو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی، 15 اب ہم اپنے قصُوروں کا اعتراف کرتے ہیں، 16 کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟“ 17
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 15
دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی سے مراد و ہی چیز ہے جس کا ذکر سورة بقرہ، آیت 28 میں کیا گیا ہے کہ تم خدا کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو جبکہ تم بےجان تھے، اس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہ تمہیں موت دے گا اور پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ کفار ان میں سے پہلی تین حالتوں کا تو انکار نہیں کرتے، کیونکہ وہ مشاہدے میں آتی ہیں اور اس بنا پر ناقابل انکار ہیں، مگر آخری حالت پیش آنے کا انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے مشاہدے میں ابھی تک نہیں آئی ہے اور صرف انبیاء (علیہم السلام) ہی نے اس کی خبر دی ہے۔ قیامت کے روز جب عملاً وہ چوتھی حالت بھی مشاہدے میں آجائے گی تب یہ لوگ اقرار کریں گے کہ واقعی وہی کچھ پیش آگیا جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی۔
سورة الْمُؤْمِن 16
یعنی ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس دوسری زندگی کا انکار کر کے ہم نے سخت غلطی کی اور اس غلط نظریے پر کام کر کے ہماری زندگی گناہوں سے لبریز ہوگئی۔
سورة الْمُؤْمِن 17
یعنی کیا اب اس کا کوئی امکان ہے کہ ہمارے اعتراف گناہ کو قبول کر کے ہمیں عذاب کی اس حالت سے نکال دیا جائے جس میں ہم مبتلا ہوگئے ہیں۔