Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 12

  1. ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ﴿12﴾

    1. ذٰلِكُمْیہ تم (پر)
    2. بِاَنَّهٗٓاس لئے کہ
    3. اِذَاجب
    4. دُعِيَ اللّٰهُپکارا جاتا اللہ
    5. وَحْدَهٗواحد
    6. كَفَرْتُمْ ۚتم کفر کرتے
    7. وَاِنْاور اگر
    8. يُّشْرَكْ بِهٖاس کا شریک کیا جاتا
    9. تُؤْمِنُوْا ۭتم مان لیتے
    10. فَالْحُكْمُ لِلّٰهِپس حکم اللہ کیلئے
    11. الْعَلِيِّبلند
    12. الْكَبِيْرِبڑا
Translation · Tafheem-ul-Quran
(جواب ملے گا)”یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو، اس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف بُلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کر دیتےتھے اور جب اُس کے ساتھ دُوسروں کو مِلایا جاتا تو تُم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے۔ 18
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 18 یعنی فیصلہ اب اسی اکیلے خدا کے ہاتھ میں ہے جس کی خدائی پر تم راضی نہ تھے، اور ان دوسروں کا فیصلے میں کوئی دخل نہیں ہے جنہیں خدائی کے اختیارات میں حصہ دار قرار دینے پر تمہیں بڑا اصرار تھا۔ (اس مقام کو سمجھنے کے لیے سورة زمر آیت 45 اور اس کا حاشیہ 64 بھی نگاہ میں رہنا چاہیے)۔ اس فقرے میں آپ سے آپ یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اب اس عذاب کی حالت سے تمہارے نکلنے کی کوئی سبیل نہیں ہے، کیونکہ تم نے صرف آخرت ہی کا انکار نہیں کیا تھا بلکہ اپنے خالق و پروردگار سے تم کو چڑ تھی اور اس کے ساتھ دوسروں کو ملائے بغیر تمہیں چین نہ آتا تھا۔