تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 13
هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ﴿13﴾
- هُوَ الَّذِيْوہ جو کہ
- يُرِيْكُمْتمہیں دکھاتا ہے
- اٰيٰتِهٖاپنی نشانیاں
- وَيُنَزِّلُاور اتارتا ہے
- لَكُمْتمہارے لئے
- مِّنَ السَّمَآءِآسمانوں سے
- رِزْقًا ۭرزق
- وَمَااور نہیں
- يَتَذَكَّرُنصیحت قبول کرتا
- اِلَّاسوائے
- مَنْجو
- يُّنِيْبُرجوع کرتا ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے 19 اور آسمان سے تمہارےلیے رزق نازل کرتا ہے، 20 مگر (اِن نشانیوں کے مشاہدے سے)سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ 21
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 19
نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ اس کائنات کا صانع اور مدبر منتظم ایک خدا اور ایک ہی خدا ہے۔
سورة الْمُؤْمِن 20
رزق سے مراد یہاں بارش ہے، کیونکہ انسان کو جتنی اقسام کے رزق بھی دنیا میں ملتے ہیں ان سب کا مدار آخر کار بارش پر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی بیشمار نشانیوں میں سے تنہا اس ایک نشانی کو پیش کر گے لوگوں کو توجہ دلاتا ہے کہ صرف اسی ایک چیز کے انتظام پر تم غور کرو تو تمہاری سمجھ میں آجائے کہ نظام کائنات کے متعلق جو تصور تم کو قرآن میں دیا جا رہا ہے وہی حقیقت ہے۔ یہ انتظام صرف اسی صورت میں قائم ہوسکتا تھا جبکہ زمین اور اس کی مخلوقات اور پانی اور ہوا اور سورج اور حرارت و برودت سب کا خالق ایک ہی خدا ہو۔ اور یہ انتظام صرف اسی صورت میں لاکھوں کروڑوں برس تک پیہم ایک باقاعدگی سے چل سکتا ہے جس نے زمین میں انسان اور حیوانات اور نباتات کو جب پیدا کیا تو ٹھیک ٹھیک ان کی ضروریات کے مطابق پانی بھی بنایا اور پھر اس پانی کو باقاعدگی کے ساتھ روئے زمین پر پہنچانے اور پھیلانے کے لیے یہ حیرت انگیز انتظامات کیے۔ اب اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے جو یہ سب کچھ دیکھ کر بھی خدا کا انکار کرے، یا اس کے ساتھ کچھ دوسری ہستیوں کو بھی خدائی میں شریک ٹھہرائے۔
سورة الْمُؤْمِن 21
یعنی خدا سے پھرا ہوا آدمی، جس کی عقل پر غفلت یا تعصب کا پردہ پڑا ہوا ہو، کسی چیز کو دیکھ کر بھی کوئی سبق نہیں لے سکتا۔ اس کی حیوانی آنکھیں یہ تو دیکھ لیں گی کہ ہوائیں چلیں، بادل آئے، کڑک چمک ہوئی، اور بارش ہوئی۔ مگر اس کا انسانی دماغ کبھی یہ نہ سوچے گا کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے، کون کر رہا ہے اور مجھ پر اس کے کیا حقوق ہیں۔