تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 15
رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ﴿15﴾
- رَفِيْعُبلند
- الدَّرَجٰتِدرجے
- ذُو الْعَرْشِ ۚعرش کا مالک
- يُلْقِيوہ ڈالتا ہے
- الرُّوْحَروح
- مِنْ اَمْرِهٖاپنے حکم سے
- عَلٰي مَنْجس پر
- يَّشَآءُوہ چاہتا ہے
- مِنْ عِبَادِهٖاپنے بندوں میں سے
- لِيُنْذِرَتاکہ وہ ڈرائے
- يَوْمَ التَّلَاقِملاقات (قیامت) کا دن
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ بلند درجوں والا، 23 مالکِ عرش ہے۔ 24 اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے رُوح نازل کردیتا ہے 25 تاکہ وہ ملاقات کے دن 26 سے خبردار کر دے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 23
یعنی تمام موجودات سے اس کا مقام بدرجہا بلند ہے۔ کوئی ہستی بھی جو اس کائنات میں موجود ہے، خواہ وہ کوئی فرشتہ ہو یا نبی یا ولی، یا اور کوئی مخلوق، اس کا مقام دوسری مخلوقات کے مقابلے میں چاہے کتنا ہی ارفع و اشرف ہو، مگر اللہ تعالیٰ کے بلند ترین مقام سے اس کے قریب ہونے تک کا تصور نہیں کیا جاسکتا کجا کہ خدائی صفات و اختیارات میں اس کے شریک ہونے کا گمان کیا جاسکے۔
سورة الْمُؤْمِن 24
یعنی ساری کائنات کا بادشاہ و فرمانروا ہے۔ کائنات کے تخت سلطنت کا مالک ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد دوم، صفحات 36۔ 262۔ 441۔ جلد سوم، ص 87)
سورة الْمُؤْمِن 25
روح سے مراد وحی اور نبوت ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد دوم، صفحات 524۔ 639) اور یہ ارشاد کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے یہ روح نازل کرتا ہے، اس معنی میں ہے کہ اللہ کے فضل پر کسی کا اجارہ نہیں ہے۔ جس طرح کوئی شخص یہ اعتراض کرنے کا حق نہیں رکھتا کہ فلاں شخص کو حسن کیوں دیا گیا اور فلاں شخص کو حافظہ یا ذہانت کی غیر معمولی قوت کیوں عطا کی گئی، اسی طرح کسی کو یہ اعتراض کرنے کا بھی حق نہیں ہے کہ منصب نبوت کے لیے فلاں شخص ہی کو کیوں چنا گیا اور جسے ہم چاہتے تھے اسے کیوں نہ نبی بنایا گیا۔
سورة الْمُؤْمِن 26
یعنی جس روز تمام انسان اور جن اور شیاطین بیک وقت اپنے رب کے سامنے جمع ہوں گے اور ان کے اعمال کے سارے گواہ بھی حاضر ہوں گے۔