تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 16
یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴿16﴾
- يَوْمَجس دن
- هُمْ بٰرِزُوْنَ ڬوہ ظاہر ہوں گے
- لَا يَخْفٰىنہ پوشیدہ ہوگی
- عَلَي اللّٰهِاللہ پر
- مِنْهُمْان سے، کی
- شَيْءٌ ۭکوئی شے
- لِمَنِکس کے لئے
- الْمُلْكُبادشاہت
- الْيَوْمَ ۭآج
- لِلّٰهِاللہ کے لئے
- الْوَاحِدِواحد
- الْقَهَّارِزبردست
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ دن جبکہ سب لوگ بے پردہ ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی بات بھی چھُپی ہوئی نہ ہوگی۔ (اُس روز پکار کر پُوچھا جائے گا)آج بادشاہی کس کی ہے؟ 27 (سارا عالم پکار اُٹھے گا)اللہ واحد قہّار کی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 27
یعنی دنیا میں تو بہت سے بر خود غلط لوگ اپنی بادشاہی و جباری کے ڈنکے پیٹتے رہے، اور بہت سے احمق ان کی بادشاہیاں اور کبریائیاں مانتے رہے، اب بتاؤ کہ بادشاہی فی الواقع کس کی ہے ؟ اختیارات کا اصل مالک کون ہے ؟ اور حکم کس کا چلتا ہے ؟ یہ ایسا مضمون ہے جسے اگر کوئی شخص گوش ہوش سے سنے تو خواہ وہ کتنا ہی بڑا بادشاہ یا آمر مطلق بنا بیٹھا ہو، اس کا زہرہ آب ہوجائے اور ساری جباریت کی ہوا اس کے دماغ سے نکل جائے۔ اس موقع پر تاریخ کا یہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ سامانی خاندان کا فرمانروا انصر بن احمد (331۔ 301) جب نیشاپور میں داخل ہوا تو اس نے ایک دربار منعقد کیا اور تخت پر بیٹھنے کے بعد فرمائش کی کہ کاروائی کا افتتاح قرآن مجید کی تلاوت سے ہو۔ یہ سن کر ایک بزرگ آگے بڑھے اور انہوں نے یہی رکوع تلاوت کیا۔ جس وقت وہ اس آیت پر پہنچے تو نصر پر ہیبت طاری ہوگئی۔ لرزتا ہوا تخت سے اترا، تاج سر سے اتار کر سجدے میں گرگیا اور بولا اے رب، بادشاہی تیری ہی ہے نہ کہ میری۔