Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 37

Tafseer
  1. اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ع﴿37﴾

    1. اَسْبَابَراستے
    2. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    3. فَاَطَّلِعَپس جھانک لوں
    4. اِلٰٓىطرف، کو
    5. اِلٰهِ مُوْسٰىموسیٰ کے معبود
    6. وَاِنِّىْاور بیشک میں
    7. لَاَظُنُّهٗاسے البتہ گمان کرتا ہوں
    8. كَاذِبًا ۭجھوٹا
    9. وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
    10. زُيِّنَآراستہ دکھائے
    11. لِفِرْعَوْنَفرعون کو
    12. سُوْٓءُ عَمَلِهٖاس کے بُرے اعمال
    13. وَصُدَّاور وہ روک دیا گیا
    14. عَنِسے
    15. السَّبِيْلِ ۭ(سیدھے) راستے
    16. وَمَا كَيْدُاور نہیں تدبیر
    17. فِرْعَوْنَفرعون
    18. اِلَّامگر، صرف
    19. فِيْ تَبَابٍتباہی میں
Translation · Tafheem-ul-Quran
آسمانوں  کے راستوں تک ، اور موسیٰؑ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں۔ مجھے تو یہ موسیٰؑ جھُوٹا ہی معلوم ہوتا ہے۔“ 55۔۔۔۔ اس طرح فرعون کے لیے اس کی بدعملی خوشنما بنادی گئی اور وہ راہِ راست سے روک دیا گیا۔ فرعون کی ساری چال بازی (اُس کی اپنی)تباہی کے راستہ ہی میں صَرف ہوئی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 55 مومن آل فرعون کی تقریر کے دوران میں فرعون اپنے وزیر ہامان کو مخاطب کر کے یہ بات کچھ اس انداز میں کہتا ہے کہ گویا وہ اس مومن کے کلام کو کسی التفات کے قابل نہیں سمجھتا، اس لیے متکبرانہ شان کے ساتھ اس کی طرف سے منہ پھیر کر ہامان سے کہتا ہے کہ ذرا میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا، دیکھوں تو سہی کہ یہ موسیٰ جس خدا کی باتیں کر رہا ہے وہ کہاں رہتا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، القصص، حواشی 52 تا 54)