Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 23

  1. وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿23﴾

    1. وَذٰلِكُمْاور اس
    2. ظَنُّكُمُتمہارا گمان
    3. الَّذِيْوہ جو
    4. ظَنَنْتُمْتم نے گمان کیا تھا
    5. بِرَبِّكُمْاپنے پروردگار کے متعلق
    6. اَرْدٰىكُمْہلاک کیا تمہیں
    7. فَاَصْبَحْتُمْسو تم ہوگئے
    8. مِّنَسے
    9. الْخٰسِرِيْنَخسارہ پانے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے ربّ کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈُوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے۔“ 27
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 27 حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ نے اس آیت کی تشریح میں خوب فرمایا ہے کہ ہر آدمی کا رویہ اس گمان کے لحاظ سے متعین ہوتا ہے جو وہ اپنے رب کے متعلق قائم کرتا ہے۔ مومن صالح کا رویہ اس لیے درست ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے بارے میں صحیح گمان رکھتا ہے، اور کافر و منافق اور فاسق و ظالم کا رویہ اس لیے غلط ہوتا ہے کہ اپنے رب کے بارے میں اس کا گمان غلط ہوتا ہے۔ یہی مضمون نبی ﷺ نے ایک بڑی جامع اور مختصر حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارا رب کہتا ہے انا عند ظن عبدی بی، " میں اس گمان کے ساتھ ہوں جو میرا بندہ مجھ سے رکھتا ہے۔ " (بخاری و مسلم)