تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 25
وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ع﴿25﴾
- وَقَيَّضْنَااور ہم نے مقرر کئے
- لَهُمْ قُرَنَآءَان کیلئے کچھ ہم نشین
- فَزَيَّنُوْاتو انہوں نے آراستہ کردکھایا
- لَهُمْان کے لئے
- مَّاجو
- بَيْنَ اَيْدِيْهِمْان کے آگے
- وَمَااور جو
- خَلْفَهُمْان کے پیچھے
- وَحَقَّاور پوری ہوگئی
- عَلَيْهِمُان پر
- الْقَوْلُبات
- فِيْٓ اُمَمٍان امتوں میں
- قَدْ خَلَتْجو گزرچکیں
- مِنْ قَبْلِهِمْان سے قبل
- مِّنَ الْجِنِّجنات میں سے، کی
- وَالْاِنْسِ ۚاور انسان
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- كَانُوْاتھے
- خٰسِرِيْنَخسارہ پانے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلّط کر دیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما کر دکھاتے تھے، 29 آخر کا ر اُن پر بھی وہی فیصلہٴ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جِنّوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہو چکا تھا، یقیناًوہ خسارے میں رہ جانے والے تھے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 29
یہ اللہ تعالیٰ کی مستقل اور دائمی سنت ہے کہ وہ بری نیت اور بری خواہشات رکھنے والے انسانوں کو کبھی اچھے ساتھی نہیں دلواتا، بلکہ انہیں ان کے اپنے رجحانات کے مطابق برے ساتھی ہی دلواتا ہے۔ پھر جتنے جتنے وہ بدی کی پستیوں میں گہرے اترتے جاتے ہیں اتنے ہی بدتر سے بدتر آدمی اور شیاطین ان کے ہم نشین اور مشیر اور رفیق کار بنتے چلے جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ فلاں صاحب بذات خود تو بہت اچھے ہیں، مگر انہیں ساتھی برے مل گئے ہیں، حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔ قانون فطرت یہ ہے کہ ہر شخص کو ویسے ہی دوست ملتے ہیں جیسا وہ خود ہوتا ہے۔ ایک نیک آدمی کے ساتھ اگر برے لوگ لگ بھی جائیں تو وہ اس کے ساتھ زیادہ دیر تک لگے نہیں رہ سکتے۔ اور اسی طرح ایک بد نیت اور بد کردار آدمی کے ساتھ نیک اور شریف انسانوں کی رفاقت اتفاقاً واقع ہو بھی جائے تو وہ زیادہ دیر تک نہیں نبھ سکتی۔ بد آدمی فطرۃً بدو ہی کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور بد ہی اس کی طرف کھنچتے ہیں، جس طرح غلاظت مکھیوں کو کھینچتی ہے اور مکھیاں غلاظت کی طرف کھنچتی ہیں۔ اور یہ جو ارشاد فرمایا کہ وہ آگے اور پیچھے ہر چیز ان کو خوشنما بنا کردکھاتے تھے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو یقین دلاتے تھے کہ آپ کا ماضی بھی بڑا شاندار تھا اور مستقبل بھی نہایت درخشاں ہے وہ ایسی عینک ان کی آنکھوں پر چڑھاتے تھے کہ ہر طرف ان کو ہرا ہی ہرا نظر آتا تھا۔ وہ ان سے کہتے تھے کہ آپ پر تنقید کرنے والے احمق ہیں، آپ کوئی نرالا کام تھوڑی کر رہے ہیں، دنیا میں ترقی کرنے والے وہی کچھ کرتے رہے ہیں جو آپ کر رہے ہیں اور آگے اول تو کوئی آخرت ہے ہی نہیں جس میں آپ کو اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی پڑے، لیکن اگر وہ پیش آ ہی گئی، جیسا کہ چند نادان دعویٰ کرتے ہیں، تو جو خدا آپ کو یہاں نعمتوں سے نواز رہا ہے وہ وہاں بھی آپ پر انعام و اکرام کی بارش کرے گا، دوزخ آپ کے لیے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے بنی ہے جنہیں یہاں خدا نے اپنی نعمتوں سے محروم کر رکھا ہے۔