تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 26
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ﴿26﴾
- وَقَالَاور کہا
- الَّذِيْنَان لوگوں نے جو
- كَفَرُوْاانہوں نے کفر کیا
- لَا تَسْمَعُوْاتم مت سنو
- لِھٰذَا الْقُرْاٰنِیہ قرآن
- وَالْغَوْا فِيْهِاور غل مچاؤ اس میں
- لَعَلَّكُمْشاید کہ تم
- تَغْلِبُوْنَتم غالب آجاؤ
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ منکرینِ حق کہتے ہیں”اِس قرآن کو ہرگز نہ سُنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاوٴ۔“ 30
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 30
یہ کفار مکہ کے ان منصوبوں میں سے ایک تھا جس سے وہ نبی ﷺ کی دعوت و تبلیغ کو ناکام کرنا چاہتے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ قرآن اپنے اندر کس بلا کی تاثیر رکھتا ہے، اور اس کو سنانے والا کس پائے کا انسان ہے، اور اس شخصیت کے ساتھ اس کا طرز ادا کس درجہ مؤثر ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے عالی مرتبہ شخص کی زبان سے اس دل کش انداز میں اس بےنظیر کلام کو جو سنے گا وہ آخر کار گھائل ہو کر رہے گا۔ اس لیے انہوں نے یہ پروگرام بنایا کہ اس کلام کو نہ خود سنو، نہ کسی کو سننے دو۔ محمد ﷺ جب بھی اسے سنانا شروع کریں، شور مچاؤ، تالی پیٹ دو۔ آوازے کسو، اعتراضات کی بوچھاڑ کردو۔ اور اتنی آواز بلند کرو کہ ان کی آواز اس کے مقابلے میں دب جائے۔ اس تدبیر سے وہ امید رکھتے تھے کہ اللہ کے نبی کو شکست دے دیں گے۔