تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 30
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ﴿30﴾
- اِنَّبیشک
- الَّذِيْنَوہ جنہوں نے
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- رَبُّنَا اللّٰهُہمارا رب اللہ
- ثُمَّپھر
- اسْتَقَامُوْاوہ ثابت قدم رہے
- تَتَنَزَّلُاترتے ہیں
- عَلَيْهِمُان پر
- الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
- اَلَّا تَخَافُوْاکہ نہ تم خوف کھاؤ
- وَلَا تَحْزَنُوْااور نہ غمگین ہو
- وَاَبْشِرُوْااور تم خوش ہو
- بِالْجَنَّةِجنت پر
- الَّتِيْوہ جو
- كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَتمہیں وعدہ دیاجاتا تھا
Translation · Tafheem-ul-Quran
32 جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا ربّ ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، 33 یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں 34 اور ان سے کہتے ہیں کہ”نہ ڈرو، نہ غم کرو، 35 اور خوش ہو جاوٴ اُس جنّت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 32
یہاں تک کفار کو ان کی ہٹ دھرمی اور مخالفت حق کے نتائج پر متنبہ کرنے کے بعد اب اہل ایمان اور نبی ﷺ کی طرف روئے سخن مڑتا ہے۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 33
یعنی محض اتفاقاً کبھی اللہ کو اپنا رب کہتے بھی جائیں اور ساتھ ساتھ دوسروں کو اپنا رب بناتے بھی جائیں، بلکہ ایک مرتبہ یہ عقیدہ قبول کرلینے کے بعد پھر ساری عمر اس پر قائم رہے، اس کے خلاف کوئی دوسرا عقیدہ اختیار نہ کیا، نہ اس عقیدے کے ساتھ کسی باطل عقیدے کی آمیزش کی، اور اپنی عملی زندگی میں بھی عقیدہ توحید کے تقاضوں کو پورا کرتے رہے۔
توحید پر استقامت کا مفہوم کیا ہے، اس کی تشریح نبی ﷺ ، اور اکابر صحابہ نے اس طرح کی ہے
حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا قد قالھا الناس ثم کفر اکثرھم، فمن مات علیھا فھو ممن استقام۔ " بہت سے لوگوں نے اللہ کو اپنا رب کہا، مگر ان میں سے اکثر کافر ہوگئے۔ ثابت قدم وہ شخص ہے جو مرتے دم تک اسی عقیدے پر جما رہا " (ابن جریر، نسائی ابن ابی حتم)۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس کی تشریح یوں کرتے ہیں لم یشرکوا باللہ شیئاً ، لَمْ یَلتفتوا الٰی الٰہٍ غیرہ۔ " پھر اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا، اس کے سوا کسی دوسرے معبود کی طرف توجہ نہ کی " (ابن جریر)۔
حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ منبر پر یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا، " خدا کی قسم، استقامت اختیار کرنے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوگئے، لومڑیوں کی طرح ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر دوڑتے نہ پھرے " (ابن جریر)
حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں " اپنے عمل کو اللہ کے لیے خالص کرلیا " (کشاف)
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں " اللہ کے عقائد کردہ فرائض فرمانبرداری کے ساتھ ادا کرتے رہے " (کشاف)
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 34
فرشتوں کا یہ نزول ضروری نہیں ہے کہ کسی محسوس صورت میں ہو اور اہل ایمان انہیں آنکھوں سے دیکھیں یا ان کی آواز کانوں سے سنیں۔ اگرچہ اللہ جل شانہ جس کے لیے چاہے فرشتوں کو علانیہ بھی بھیج دیتا ہے، لیکن بالعموم اہل ایمان پر، خصوصاً سخت وقتوں میں جبکہ دشمنان حق کے ہاتھوں وہ بہت تنگ ہو رہے ہوں، ان کا نزول غیر محسوس طریقہ سے ہوتا ہے، اور ان کی باتیں کان کے پردوں سے ٹکرانے کے بجائے دل کی گہرائیوں میں سکینت و اطمینان قلب بن کر اترتی ہیں۔ بعض مفسرین نے فرشتوں کے اس نزول کو موت کے وقت، یا قبر، یا میدان حشر کے لیے مخصوص سمجھا ہے۔ لیکن اگر ان حالات پر غور کیا جائے جن میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں، تو اس میں کچھ شک نہیں رہتا کہ یہاں اس معاملہ کو بیان کرنے کا اصل مقصد اس زندگی میں دین حق کی سر بلندی کے لیے جانیں لڑانے والوں پر فرشتوں کے نزول کا ذکر کرنا ہے، تاکہ انہیں تسکین حاصل ہو، اور ان کی ہمت بندھے، اور ان کے دل اس احساس سے مطمئن ہوجائیں کہ وہ بےیارو مددگار نہیں ہیں بلکہ اللہ کے فرشتے ان کے ساتھ ہیں۔ اگرچہ فرشتے موت کے وقت بھی اہل ایمان کا استقبال کرنے آتے ہیں، اور قبر (عالم برزخ) میں بھی وہ ان کی پذیرائی کرتے ہیں، اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز بھی ابتدائے حشر سے جنت میں پہنچنے تک وہ برابر ان کے ساتھ لگے رہیں گے، لیکن ان کی یہ معیت اسی عالم کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس دنیا میں بھی وہ جاری ہے۔ سلسلہ کلام صاف بتارہا ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں جس طرح باطل پرستوں کے ساتھی شیاطین و اشرار ہوتے ہیں اسی طرح اہل ایمان کے ساتھی فرشتے ہوا کرتے ہیں۔ ایک طرف باطل پرستوں کو ان کے ساتھی ان کے کرتوت خوشنما بنا کردکھاتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جو ظلم و ستم اور بےایمانیاں تم کر رہے ہو، یہی تمہاری کامیابی کے ذرائع ہیں اور انہی سے دنیا میں تمہاری سرداری محفوظ رہے گی۔ دوسرے طرف حق پرستوں کے پاس اللہ کے فرشتے آ کر وہ پیغام دیتے ہیں جو آگے کے فقروں میں ارشاد ہو رہا ہے۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 35
یہ بڑے جامع الفاظ ہیں جو دنیا سے لے کر آخرت تک ہر مرحلے میں اہل ایمان کے لیے تسکین کا ایک نیا مضمون اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں فرشتوں کی اس تلقین کا مطلب یہ ہے کہ باطل کی طاقتیں خواہ کتنی ہی بالا دست اور چیرہ دست ہوں، ان سے ہرگز خوف زدہ نہ ہو اور حق پرستی کی وجہ سے جو تکلیفیں اور محرومیاں بھی تمہیں سہنی پڑیں، ان پر کوئی رنج نہ کرو، کیونکہ آگے تمہارے لیے وہ کچھ ہے جس کے مقابلے میں دنیا کی ہر نعمت ہیچ ہے۔ یہی کلمات جب موت کے وقت فرشتے کہتے ہیں تو ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آگے جس منزل کی طرف تم جا رہے ہو وہاں تمہارے لیے کوئی خوف کا مقام نہیں، کیونکہ وہاں جنت تمہاری منتظر ہے، اور دنیا میں جن کو تم چھوڑ کر جا رہے ہو ان کے لیے تمہیں رنجیدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ یہاں ہم تمہارے لیے چین ہی چین ہے، دنیا کی زندگی میں جو حالات تم پر گزرے ان کا غم نہ کرو اور آخرت میں جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کا خوف نہ کھاؤ، اس لیے کہ ہم تمہیں اس جنت کی بشارت دے رہے ہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔