تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 40
اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿40﴾
- اِنَّ الَّذِيْنَبیشک جو لوگ
- يُلْحِدُوْنَکج روی کرتے ہیں
- فِيْٓ اٰيٰتِنَاہماری آیات سے
- لَا يَخْفَوْنَوہ پوشیدہ نہیں
- عَلَيْنَا ۭہم پر
- اَفَمَنْ يُّلْقٰىتو کیا جو ڈالا جائے
- فِي النَّارِآگ میں
- خَيْرٌبہتر
- اَمْیا
- مَّنْ يَّاْتِيْٓجو آئے
- اٰمِنًاامان کے ساتھ
- يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭروز قیامت
- اِعْمَلُوْاتم کرو
- مَا شِئْتُمْ ۙجو تم چاہو
- اِنَّهٗ بِمَابیشک وہ جو
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
- بَصِيْرٌدیکھنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
48 جو لوگ ہماری آیات کو اُلٹے معنی پہناتے ہیں 49 وہ ہم سے کچھ چھُپے ہوئے نہیں ہیں۔ 50 خود ہی سوچ لو کہ آیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یا وہ جو قیامت کے روز امن کی حالت میں حاضر ہوگا ؟ کرتے رہو جو کچھ تم چاہو، تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 48
عوام الناس کو چند فقروں میں یہ سمجھانے کے بعد کہ محمد ﷺ جس توحید آخرت کے عقیدے کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہی معقول ہے اور آثار کائنات اسی کے حق ہونے کی شہادت دے رہے ہیں، اب روئے سخن پھر ان مخالفین کی طرف مڑتا ہے جو پوری ہٹ دھرمی کے ساتھ مخالفت پر تلے ہوئے تھے۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 49
اصل الفاظ ہیں یُلْحِدُوْنَ فِیْ اٰیَاتِنَا (ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں)۔ الحاد کے معنی ہیں انحراف، سیدھی راہ سے ٹیڑھی راہ کی طرف مڑ جانا، کج روی اختیار کرنا۔ اللہ کی آیات میں الحاد کا مطلب تو نہ لے، باقی ہر طرح کے غلط معنی ان کو پہنا کر خود بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا رہے۔ کفار مکہ قرآن مجید کی دعوت کو زک دینے کے لیے جو چالیں چل رہے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ قرآن کی آیات کو سن کر جاتے اور پھر کسی آیت کو سیاق وسباق سے کاٹ کر، کسی آیت میں لفظی تحریف کر کے، کسی فقرے یا لفظ کو غلط معنی پہنا کر طرح طرح کے اعتراضات جڑتے اور لوگوں کو بہکاتے پھرتے تھے کہ لو سنو، آج ان نبی صاحب نے کیا کہہ دیا ہے۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 50
ان الفاظ میں ایک سخت دھمکی مضمر ہے۔ حاکم ذی اقتدار کا کہنا کہ فلاں شخص جو حرکتیں کر رہا ہے وہ مجھ سے چھپی ہوئی نہیں ہیں، آپ سے آپ یہ معنی اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ بچ کر نہیں جاسکتا۔