تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 33
Tafseerاِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ﴿33﴾
- اِنْ يَّشَاْاگر وہ چاہے
- يُسْكِنِ الرِّيْحَتھما دے ہوا کو
- فَيَظْلَلْنَتو وہ ہوجائیں۔ رہ جائیں
- رَوَاكِدَتھمی ہوئی
- عَلٰي ظَهْرِهٖاس کی پشت پر
- اِنَّ فِيْ ذٰلِكَیقینا اس میں
- لَاٰيٰتٍالبتہ نشانیاں ہیں
- لِّكُلِّواسطے ہر
- صَبَّارٍبہت صبر کرنے والے
- شَكُوْرٍبہت شکرگزار کے لیے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ جب چاہے ہوا کو ساکن کر دے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں۔۔۔۔ اِس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو کمال درجہ صبر و شکر کرنے والا ہو 53
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الشُّوْرٰی 53
" صبر کرنے والے " سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور اچھے اور برے تمام حالات میں بندگی کے رویے پر ثابت قدم رہے۔ جس کا حال یہ نہ ہو کہ اچھا وقت آئے تو اپنی ہستی کو بھول کر خدا سے باغی اور بندوں کے حق میں ظالم بن جائے، اور برا وقت آجائے تو دل چھوڑ بیٹھے اور ہر ذلیل سے ذلیل حرکت کرنے پر اتر آئے۔ " شکر کرنے والے " سے مراد وہ شخص ہے جسے تقدیر الہٰی خواہ کتنا ہی اونچا اٹھا لے جائے، وہ اسے اپنا کمال نہیں بلکہ اللہ کا احسان ہی سمجھتا رہے، اور وہ خواہ کتنا ہی نیچے گرا دیا جائے، اس کی نگاہ اپنی محرومیوں کے بجائے ان نعمتوں پر ہی مرکوز رہے جو برے سے برے حالات میں بھی آدمی کو حاصل رہتی ہیں، اور خوشحالی و بد حالی، دونوں حالتوں میں اس کی زبان اور اس کے دل سے اپنے رب کا شکر ہی ادا ہوتا رہے۔