تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 45
وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ﴿45﴾
- وَتَرٰىهُمْاور تم دیکھو گے ان کو
- يُعْرَضُوْنَوہ پیش کیے جائیں گے
- عَلَيْهَااس پر (یعنی جہنم پر)
- خٰشِعِيْنَجھکنے والے۔ دبنے والے
- مِنَ الذُّلِّذلت کی وجہ سے
- يَنْظُرُوْنَوہ دیکھیں گے
- مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّپوشیدہ نظر سے۔ چھپی ہوئی نظر سے
- وَقَالَ الَّذِيْنَاور کہیں گے وہ لوگ
- اٰمَنُوْٓاجو ایمان لائے
- اِنَّ الْخٰسِرِيْنَبیشک خسارہ پانے والے
- الَّذِيْنَوہ لوگ ہیں
- خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْجنہوں نے خسارے میں ڈالا اپنے نفسوں کو
- وَاَهْلِيْهِمْاور اپنے گھروالوں کو
- يَوْمَ الْقِيٰمَةِقیامت کے دن
- اَلَآخبردار
- اِنَّ الظّٰلِمِيْنَبیشک ظالم لوگ
- فِيْمیں
- عَذَابٍ مُّقِيْمٍدائمی عذاب (میں) ہوں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور تم دیکھوں گے کہ یہ جہنّم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلّت کے مارے جُھکے جا رہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کر کن اَنکھیوں سے دیکھیں گے۔ 71 اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلّقین کو خسارے میں ڈال دیا ہے۔ خبر دار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الشُّوْرٰی 71
انسان کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی ہولناک منظر اس کے سامنے ہوتا ہے اور وہ جان رہا ہوتا ہے کہ عنقریب وہ اس بلا کے چنگل میں آنے والا ہے جو سامنے نظر آ رہی ہے، تو پہلے تو ڈر کے مارے وہ آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ پھر اس سے رہا نہیں جاتا۔ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بلا کیسی ہے اور ابھی اس سے کتنی دور ہے۔ لیکن اس کی بھی ہمت نہیں پڑتی کہ سر اٹھا کر نگاہ بھر کر اسے دیکھے۔ اس لیے بار بار ذرا سی آنکھیں کھول کر اسے گوشہ چشم سے دیکھتا ہے اور پھر ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ جہنم کی طرف جانے والوں کی اسی کیفیت کا نقشہ اس آیت میں کھینچا گیا ہے۔