تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 17
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ﴿17﴾
- وَاِذَا بُشِّرَحالانکہ جب خوش خبری دی جاتی ہے
- اَحَدُهُمْان میں سے کسی ایک کو
- بِمَاساتھ اس کے جو
- ضَرَبَ للرَّحْمٰنِاس نے بیان کیا رحمن کے لیے
- مَثَلًامثال
- ظَلَّہوجاتا ہے
- وَجْهُهٗاس کا چہرا
- مُسْوَدًّاسیاہ
- وَّهُوَ كَظِيْمٌاور وہ غم کے گھونٹ پینے والا ہوتا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اُس خدائے رحمٰن کی طرف منسُوب کرتے ہیں اُس کی ولادت کا مژدہ جب خود اِن میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اُس کے مُنہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔16
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الزُّخْرُف 16
یہاں مشرکین عرب کی نامعقولیت کو پوری طرح بےنقاب کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ ان کے بت انہوں نے عورتوں کی شکل کے بنا رکھے تھے، اور یہی ان کی وہ دیویاں تھیں جن کی پرستش کی جاتی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اول تو تم نے یہ جاننے اور ماننے کے باوجود کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے اور اس زمین کو اسی نے تمہارے لیے گواہ بنایا ہے، اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے، اور اسی نے یہ جانور تمہاری خدمت کے لیے پیدا کیے ہیں، اس کے ساتھ دوسروں کو معبود بنایا۔ حالانکہ جنہیں تم معبود بنا رہے ہو وہ خدا نہیں بلکہ بندے ہیں۔ پھر مزید غضب یہ کیا کہ بعض بندوں کو صفات ہی میں نہیں بلکہ اللہ کی ذات میں بھی اس کا شریک بنا ڈالا اور یہ عقیدہ ایجاد کیا کہ وہ اللہ کی اولاد ہیں۔ اس پر بھی تم نے بس نہ کیا اور اللہ کے لیے وہ اولاد تجویز کی جسے تم خود اپنے لیے ننگ و عار سمجھتے ہو۔ بیٹی گھر میں پیدا ہوجائے تو تمہارا منہ کالا ہوجاتا ہے، خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتے ہو، بلکہ بعض اوقات زندہ بچی کو دفن کردیتے ہو۔ یہ اولاد تو آئی اللہ کے حصے میں۔ اور بیٹے، جو تمہارے نزدیک فخر کے قابل اولاد ہیں، مخصوص ہوگئے تمہارے لیے ؟ اس پر تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم اللہ کے ماننے والے ہیں۔